رات کے وقت اسمارٹ فون کا استعمال ذہنی دباؤ اور خودکشی کے رجحانات بڑھا سکتا ہے
ایک نئی طبی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ رات کو دیر گئے تک اسمارٹ فون کے استعمال کا تعلق اُن بالغ افراد میں خودکشی کے خیالات میں واضح اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جو پہلے ہی نفسیاتی خطرات کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ تحقیق کے مطابق کچھ دیگر طرزِ استعمال اس کے برعکس اثر بھی دکھا سکتے ہیں۔
یہ نتائج سائنسی ویب سائٹ MedicalXpressکی رپورٹ میں پیش کیے گئے، جو تحقیق JAMA Network Openمیں شائع ہوئی۔ یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے کی کوشش کا حصہ ہے کہ دن کے حساس اوقات میں ڈیجیٹل رویوں اور ذہنی صحت کے درمیان کیا تعلق ہو سکتا ہے۔
رات کو فون کا استعمال ایک خاموش خطرہ
رپورٹ کے مطابق خودکشی کے خیالات عام طور پر رات کے پرسکون اوقات میں بڑھ جاتے ہیں اور ایسے عوامل جو انسان کو جاگتا رکھیں یا اس کے تناؤ میں اضافہ کریں،جیسے اسمارٹ فون کا استعمال،ذہنی صحت پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔
امریکی اعداد و شمار کے مطابق ہر سال 1 کروڑ سے زیادہ بالغ افراد خودکشی کے خیالات کا شکار ہوتے ہیں، جس سے ان کے اسباب کو سمجھنا ایک نہایت اہم ضرورت بن جاتا ہے۔
نیند کی کمی یا اس کا بگڑجانا کئی سالوں سے اگلے دن خودکشی کے خیالات میں اضافے سے منسلک رہا ہے۔ لیکن نئی تحقیق کہتی ہے کہ رات کے وقت کی سرگرمی خصوصاً فون کا استعمال ایک ایسا اضافی عنصر ہو سکتا ہے جو اس خطرے کو بڑھا یا کم کر سکتا ہے۔
محدود مگر گہری تحقیق
محققین نے نسبتاً ایک چھوٹے گروہ پر انحصار کیا، جس میں 79 ایسے بالغ شامل تھے جو انتہائی خطرے کی کیٹیگری میں آتے تھے، کیونکہ انہوں نے گزشتہ ماہ کے دوران خودکشی کے خیالات کی اطلاع دی تھی۔ 28 دن تک ان کے فونز پر ایک خاص سافٹ ویئر نصب کیا گیا جو ہر پانچ سیکنڈ بعد اسکرین کی تصویر لیتا رہا، جس سے مجموعی طور پر 75 لاکھ سے زیادہ اسکرین شاٹس جمع کیے گئے۔
محققین نے ای ایم اے (EMA) نامی ایک تکنیک بھی استعمال کی، جو شرکاء کی روزمرہ زندگی میں ان کی ذہنی حالت کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ معلومات فراہم کرتی ہے۔
ٹیم نے ایک ذہین ماڈل تیار کیا جوغیر فعال استعمال،جیسے بس ایپس کو اسکرول کرنااور فعال استعمال یعنی کی بورڈ ظاہر ہونا جس سے تحریر یا براہ راست تعامل کا پتہ چلتا ہے اوران کے درمیان فرق کرتا ہے۔
—
قابلِ توجہ نتائج
تحقیق سے پتہ چلاکہ جن افراد کا فون استعمال کے درمیان وقفہ 7 سے 9 گھنٹے تک طویل تھا، ان میں خودکشی کے خیالات کی سطح ان لوگوں کے مقابلے میں کم تھی جن کے وقفے صرف 4 سے 7 گھنٹے تھے،جو مسلسل اور بغیر رکاوٹ نیند کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق رات 11 بجے سے 1 بجے کے درمیان فون کے استعمال کا تعلق اگلے دن خودکشی کے منصوبہ سازی میں واضح اضافے سے تھا، جب کہ 1 سے 5 بجے کے درمیان یا صبح سویرے کے استعمال میں یہ اضافہ کم تھا۔
حیرت انگیز طور پر فعال استعمال،خصوصاً آدھی رات کے بعد لکھنا یا کی بورڈ استعمال کرناخودکشی کے خیالات کے کم خطرے سے منسلک پایا گیا۔
محققین نے اندازہ لگایا کہ ایسا اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس وقت شخص شاید کسی سے رابطے میں ہوتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ تنہا اور غیر فعال اسکرولنگ میں لگا رہے جو اضطراب بڑھاتی ہے۔
تحقیق کی حدود اور احتیاط
اگرچہ نتائج اہم ہیں، لیکن محققین اور دیگر ماہرین نے ان کی تشریح میں احتیاط برتنے پر زور دیا ہے، کیونکہ تحقیق ایک ہی مرکز میں ہوئی اور شرکاء کی تعداد کم تھی۔
مزید یہ کہ ڈپریشن کے شکار افراد اپنے فون کے استعمال کا وقت بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں، جو نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔
تاہم تحقیقاتی ٹیم نے کہا کہ نتائج اہم اشارے فراہم کرتے ہیں جو مستقبل میں ڈیجیٹل نگرانی کے ایسے اوزار بنانے میں مددگار ہو سکتے ہیں جو خودکشی کے خطرے کی پیش گوئی کریں اور شاید مصنوعی ذہانت کے ذریعے بروقت مداخلت بھی ممکن ہو سکے۔
پیچیدہ تعلق
یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی اور ذہنی صحت کے تعلق پر بحث تیز ہو رہی ہے، خاص طور پر کمزور طبقات کے حوالے سے۔ جہاں طبی ادارے نیلی روشنی اور مسلسل نوٹیفیکیشنز کے باعث نیند کے مسائل پر خبردار کرتے ہیں، وہیں نئی تحقیق تجویز کرتی ہے کہ استعمال کے اوقات اور طریقے شاید مدت سے زیادہ اہم ہوں۔