مردوں میں بال جھڑنے کے لیے استعمال ہونے والی عام دوا کے سنگین اثرات… اصل کہانی کیا ہے؟
مردوں میں بالوں کا جھڑنا صرف جمالیاتی مسئلہ نہیں بلکہ اکثر خوداعتمادی اور نفسیاتی صحت پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ کئی سالوں سے دوا فناسٹریڈ(Finasteride) جینیاتی گنج پن کے علاج میں مؤثر حل کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے، جس نے بالوں کے جھڑنے کو روکنے اور دوبارہ اگانے کی صلاحیت ثابت کی ہے۔تاہم The Conversation کی ایک تحقیق کے مطابق یہ مؤثر دوا بعض اوقات نفسیاتی صحت سے متعلق سنگین ضمنی اثرات بھی پیدا کر سکتی ہے، جیسا کہ ScienceAlert نے رپورٹ کیا ہے۔
فناسٹریڈ کیسے کام کرتا ہے؟
فناسٹریڈ مردانہ گنج پن یا اینڈروجینک ایلوپیشیا کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ دوا اس انزائم کو بلاک کرتی ہے جو ٹیسٹوسٹیرون کو ڈی ہائیڈرو ٹیسٹوسٹیرون (DHT) میں تبدیل کرتا ہے، کیونکہ یہ ہارمون بالوں کے فولیکلز کو سکڑنے اور کمزور ہونے کا سبب بنتا ہے۔
اس تبدیلی کو روکنے سے DHT کی سطح 60 سے 70 فیصد کم ہو جاتی ہے، جس سے بالوں کا جھڑنا کم ہوتا ہے اور کچھ کھوئی ہوئی گھنیائی بحال ہو سکتی ہے۔ عام طور پر دوا کی روزانہ خوراک 1 ملی گرام ہوتی ہے جبکہ زیادہ خوراکیں بالوں کے مسائل کے لیے نہیں بلکہ پروسٹیٹ کی بڑھی ہوئی حالت کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
دماغ میں خطرہ :
اگرچہ یہ دوا اب بھی بڑے پیمانے پر تجویز کی جاتی ہے، مگر اس کے نفسیاتی اثرات کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے، جن میں ڈپریشن، اضطراب، جنسی خواہش میں کمی اور نایاب صورتوں میں خودکشی کے خیالات شامل ہیں۔
ابتدائی کلینیکل ٹرائلز میں یہ خطرات واضح نہیں تھے، مگر طویل مدتی استعمال کے اثرات نے عالمی اداروں کو زیادہ محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کیا۔
ایجنسیوں کی ہدایات:
مئی 2025 میں یورپی ادویات کی ایجنسی (EMA) نے تصدیق کی کہ خودکشی کے خیالات فناسٹریڈ کا ثابت شدہ ضمنی اثر ہیں اور مریضوں کو اس خطرے سے آگاہ کرنے کی ہدایت دی۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے بھی خبردار کیا کہ دوا کی مقامی (ٹاپیکل) شکلیں بھی ممکنہ طور پر اسی قسم کے اثرات پیدا کر سکتی ہیں۔
اگر علامات ظاہر ہوں تو کیا کریں؟
ماہرین نے زور دیا کہ مریض کو ان علامات کے ساتھ اکیلے نہیں رہنا چاہیے۔ اگر کوئی غیر معمولی خراب مزاج، اضطراب یا اچانک جذباتی تبدیلی محسوس کرے، تو دوا کو وقتی طور پر بند کر کے فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ تر علامات دوا بند کرنے کے بعد کم ہو جاتی ہیں، حالانکہ کچھ افراد میں اثرات کچھ عرصے تک باقی رہ سکتے ہیں۔
متبادل علاج:
ماہرین نے یہ بھی کہا کہ اگر فناسٹریڈ مناسب نہ ہو تو دیگر مؤثر متبادل موجود ہیں، جن میں شامل ہیں:
مینوکسڈیل:
یہ مقامی علاج ہے، بغیر نسخے دستیاب اور کئی سالوں سے مؤثر ثابت ہوا ہے۔ یہ ہلکی کھجلی پیدا کر سکتا ہے مگر نفسیاتی مسائل سے کم جڑا ہے۔
ڈوٹاسٹریڈ :
فناسٹریڈ کے مشابہ مگر زیادہ طاقتور دوا، جس کے نفسیاتی خطرات بھی فناسٹریڈ کی طرح ہیں، اس لیے ان لوگوں کے لیے موزوں نہیں جو فناسٹریڈ سے اثرات محسوس کر چکے ہوں۔
محتاط استعمال ضروری :
فناسٹریڈ مردانہ گنج پن کے خلاف سب سے مؤثر ادویات میں سے ایک ہے، لیکن جدید طبی معلومات کے مطابق اسے احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔
یہ دوا بہت سے لوگوں کو بالوں کے جھڑنے کی پریشانی سے بچاتی ہے، مگر اگر مریض کے نفسیاتی رویے میں اچانک تبدیلی آئے تو اس کا علاج قریبی نگرانی کے ساتھ ہونا چاہیے۔