پچاس اور ساٹھ سال عمر کی خواتین کو وزن کم کرنے کے لیے کن چیزوں کا استعمال کرنا چاہیے

پروٹین غذائی اجزاء کی فہرست میں سب سے اوپر آتا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

دنیا بھر میں پچاس اور ساٹھ سال کی عمر کی خواتین وزن کم کرنے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ مثالی وزن برقرار رکھنے میں بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔تیس سال کی عمر کے بعد خواتین ہر دس سال میں اپنی پٹھوں کی مجموعی مقدار کا تقریباً 3 فیصد سے 8 فیصد تک کھو دیتی ہیں۔ یہ بتدریج کمی جسے پٹھوں کا زوال کہا جاتا ہے، طاقت اور سرگرمی برقرار رکھنا مشکل بنا دیتی ہے اور میٹابولزم کو سست کر سکتی ہے، جس سے وزن پر قابو پانا مزید دشوار ہو جاتا ہے۔

گُوڈ ہاؤس کیپنگ Good Housekeeping ویب سائٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق اولیور وِتّارد، جو کنگز کالج لندن میں اسپورٹس میٹابولزم اور غذائیت کے سینئر لیکچرار ہیں،وہ کہتے ہیں:چالیس برس کی عمر تک پہنچتے ہی جسم کی پروٹین کو عضلات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کم ہونے لگتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ چھوٹی عمر کے مقابلے میں خوراک پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔

غذائیت کی ماہر کم پیئرسن بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں:جن لوگوں کو اپنا وزن کم کرنا ہے، انہیں ہمیشہ مناسب مقدار میں پروٹین کے استعمال کو یقینی بنانا چاہیے۔یہ عمومی صحت کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔ جتنی زیادہ پٹھوں کی مقدار ہوگی، اتنا ہی زیادہ بنیادی میٹابولک ریٹ ہوگا۔ جب پٹھوں کی مقدار کم ہوتی ہے تو میٹابولک ریٹ بھی نیچے چلا جاتا ہے۔

قبل از وقت وزن میں اضافہ

ایک وسیع تحقیق جو 2021 میں جریدے ''سائنس''(Science) میں شائع ہوئی،اس نے ظاہر کیا کہ میٹابولزم کی رفتار ساٹھ سال کی عمر سے کم ہونا شروع ہوتی ہے۔ لیکن بہت سی خواتین کے لیے وزن بڑھنے کا عمل اس سے بھی پہلے شروع ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ سنِ یاس (رجونِPause) انسولین مزاحمت میں اضافہ کر سکتا ہے، جو کمر کے گرد چربی جمع ہونے کا سبب بنتا ہے اور یہ چربی سب سے زیادہ نقصان دہ سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ دل کی بیماری، فالج، بعض اقسام کے سرطان اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔

کمر کا پیمانہ اور موٹاپے سے بچاؤ

کمر کا گھیر آپ کے قد کے نصف سے کم ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی مرد کا قد 1اعشاریہ83 میٹر ہے تو اسے اپنی کمر کو 91 سینٹی میٹر سے کم رکھنا چاہیے، جس عورت کا قد 162 سینٹی میٹر ہے اسے اپنی کمر 81 سینٹی میٹر سے کم رکھنی چاہیے۔پروٹین موٹاپے کے خلاف مزاحمت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروٹین سے بھرپور غذائیں GLP-1 اور PYY جیسے ہارمونز میں اضافہ کرتی ہیں، جو پیٹ بھرنے کا احساس پیدا کرتے ہیں، جبکہ یہ گھریلن (Ghrelin) ہارمون کو کم کرتی ہیں، جو بھوک بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔دوسرے لفظوں میں پروٹین اشتہا کو دبا کر ویسا ہی اثر ڈالتا ہے جیسا کہ وزن کم کرنے والی GLP-1 ادویات،جیسے Mounjaroکرتی ہیں، یوں کھانے کی شدید خواہش کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔


کم کیلوریز کا استعمال

ایک تحقیق جو ''جریدہ رائل کالج آف آبسٹریٹریشینز اینڈ گائناکولوجسٹس '' میں شائع ہوئی، اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ خواتین جو کم پروٹین والی غذا استعمال کرتی ہیں، وہ روزانہ تقریباً 210 کیلوریز زیادہ کھاتی ہیں، اُن خواتین کے مقابلے میں جو زیادہ پروٹین لیتی ہیں۔پروٹین کا ناشتہ بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ نیوٹریئنٹس(Nutrients)جریدے میں شائع ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ جو افراد پروٹین سے بھرپور ناشتہ جیسے انڈے یا یونانی دہی کھاتے ہیں، وہ دن کے باقی حصے میں تقریباً 111 کیلوریز کم استعمال کرتے ہیں اور زیادہ دیر تک بھوک محسوس نہیں کرتے۔


ہر کلوگرام وزن کے لیے پروٹین کی مقدار

برطانیہ کی غذائیت کی ماہر بریا تیو کے مطابق50 سال سے زیادہ عمر کے بالغ افراد کو روزانہ اپنے جسمانی وزن کے ہر کلوگرام کے لیے 1 سے 2 گرام اعلیٰ معیار کا پروٹین درکار ہوتا ہے۔ ورنہ جسم عضلات کے موجودہ ٹشوز کو توڑ کر انزائمز، ہارمونز اور مدافعتی نظام کے پروٹین بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔مثال کے طور پر اگر کسی شخص کا وزن 63اعشاریہ5 کلوگرام ہے تو اسے روزانہ تقریباً 63 سے 75 گرام پروٹین لینا چاہیے، اگر وہ بیماری یا چوٹ سے صحتیاب ہو رہا ہو تو اس سے زیادہ بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اگر اس مقدار کو روزانہ کی خوراک میں برابر تقسیم کیا جائے تو ہر کھانے میں 25 سے 30 گرام پروٹین ہدف ہونا چاہیے۔ تحقیقات کے مطابق ایک وقت میں 40 گرام سے زیادہ پروٹین لینے سے عضلات بنانے میں کوئی اضافی فائدہ نہیں ہوتا۔

لیوسین کی اہمیت

ڈاکٹر ماری لوشلن جو عمر رسیدگی کے طب کی ماہر ہیں، وہ کہتی ہیں: یہ عام بات ہے کہ بزرگ لوگ پروٹین کی ناکافی مقدار استعمال کرتے ہیں اور زیادہ تر شواہد اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ پروٹین کی مقدار بڑھانا فائدہ مند ہے۔تاہم ان کی تحقیق پروٹین کے معیار کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ مثال کے طور پر لیوسین ایک ضروری امینو ایسڈ ہے جو خوراکی پروٹین کو پٹھوں میں تبدیل کرنے، خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے اور صحتیابی کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔


ڈاکٹر لوشلن کے مطابق: بہت زیادہ سرخ گوشت کھانے کے بجائے، ایسے غذائی نظام پر عمل کریں جو لیوسین سے بھرپور ہو، جیسے سامن مچھلی، چنے، خشک میوہ جات، انڈے اور براؤن رائس، تاکہ اعلیٰ معیار کا پروٹین حاصل کیا جا سکے۔

پروٹین کے اچھے ذرائع

200 گرام یونانی دہی (18اعشاریہ1 گرام پروٹین) کے ساتھ 30 گرام بادام (6اعشاریہ4 گرام پروٹین)
دو انڈے (11اعشاریہ1 گرام پروٹین) اور دو سلائس مکمل اناج کی ٹوسٹ بریڈ (7 گرام پروٹین)
150 گرام چکن بریسٹ (33اعشاریہ8 گرام پروٹین)
130 گرام سامن فِش فِلِے (33 گرام پروٹین)
225 گرام راؤنڈ اسٹیک (65اعشاریہ7 گرام پروٹین)
100 گرام ابلا ہوا مسور کی دال (9 گرام پروٹین)
150 گرام کٹی ہوئی پنیر (Cottage Cheese) (17اعشاریہ4 گرام پروٹین)
100 گرام چنے (6اعشاریہ7 گرام پروٹین)

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size