چائے کی اجازت مگر کافی سے احتیاط،ساٹھ سال کے بعد ہڈیوں کی صحت اولین ترجیح
ایک حالیہ سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ باقاعدگی سے چائے کا استعمال بڑی عمر کی خواتین میں مضبوط ہڈیوں سے منسلک ہو سکتا ہے،کافی کا حد سے زیادہ استعمال ہڈیوں کی کثافت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ بات سائنسی ویب سائٹ ScienceDaily میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
یہ تحقیق آسٹریلیا کی فلِنڈرز یونیورسٹی کے محققین نے کی جو جریدہ Nutrients میں شائع ہوئی۔ اس مطالعے میں 65 برس یا اس سے زائد عمر کی تقریباً 10 ہزار خواتین کو دس سال تک زیرِ مشاہدہ رکھا گیا، تاکہ چائے اور کافی کے استعمال اور ہڈیوں کی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا جا سکے۔
صحتِ ہڈیوں کیوں اہم ہے؟
پچاس برس سے زائد عمر کی ہر تین میں سے ایک عورت ہڈیوں کی کمزوری (آسٹیوپوروسس) کا شکار ہوتی ہے، جو فریکچر کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے اور اس کے ساتھ سنگین طبی پیچیدگیاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔ چونکہ کافی اور چائے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے مشروبات میں شامل ہیں۔
اس لیے محققین نے روزمرہ کی سادہ عادات کے طویل مدتی اثرات کو ہڈیوں کی صحت کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔اس تحقیق میں ہڈیوں کی کمزوری سے متعلق فریکچر اسٹڈی (SOF) کے ڈیٹا پر انحصار کیا گیا، جس کے تحت ہڈیوں میں معدنی کثافت (BMD) کی باقاعدہ پیمائش کی گئی، خاص طور پر کولہے کے جوڑ اور ران کی ہڈی کے گردن والے حصے میں، کیونکہ یہ وہ علاقے ہیں جو فریکچر کے خطرے سے سب سے زیادہ وابستہ ہوتے ہیں۔
مزید برآں شرکاء نے روزانہ استعمال کی جانے والی چائے اور کافی کی مقدار کے بارے میں باقاعدہ رپورٹس فراہم کیں، جس سے محققین کو دس سال کے عرصے میں ہونے والی تبدیلیوں کو نہایت درستگی کے ساتھ جانچنے کا موقع ملا۔
چائے کے اہم فوائد
نتائج سے ظاہر ہوا کہ وہ خواتین جو باقاعدگی سے چائے پیتی ہیں، ان کی کولہے کی ہڈیوں میں معدنی کثافت اُن خواتین کے مقابلے میں قدرے زیادہ تھی جو چائے استعمال نہیں کرتی تھیں۔
اگرچہ یہ فرق معمولی تھا، لیکن شماریاتی طور پر اہم ثابت ہوا۔فلِنڈرز یونیورسٹی کے کالج آف میڈیسن اینڈ پبلک ہیلتھ سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر اِنّوو لیو کے مطابق:ہڈیوں کی کثافت میں معمولی اضافہ اوربڑی آبادی کو مدِنظر رکھا جائے، تو فریکچر کے واقعات میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
کافی میں اعتدال ضروری
چائے کے برعکس کافی سے متعلق نتائج زیادہ متنوع سامنے آئے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ کافی کا معتدل استعمال (روزانہ دو سے تین کپ) ہڈیوں کی صحت پر کسی واضح منفی اثر سے وابستہ نہیں تھا۔البتہ روزانہ پانچ کپ سے زیادہ کافی پینے کا تعلق ہڈیوں کی معدنی کثافت میں نمایاں کمی سے پایا گیا، خاص طور پر اُن خواتین میں جن کی الکحل کے استعمال کی سابقہ شرح زیادہ تھی۔
تحقیق میں شریک محقق ریان لیو نے وضاحت کی کہ کیفین کیلشیم کے جذب اور ہڈیوں کی تشکیل کے عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہے، تاہم یہ اثرات عموماً محدود ہوتے ہیں اور دودھ شامل کرنے سے انہیں کم کیا جا سکتا ہے۔
چائے کیوں مفید ہے؟
محققین کا خیال ہے کہ چائے کے فوائد اس میں موجود کیٹیکنز کی وجہ سے ہیں، جو پودوں سے حاصل ہونے والے اینٹی آکسیڈنٹ مرکبات ہیں۔ یہ مرکبات ہڈیوں کی تشکیل کو مضبوط بنانے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں کے بھربھرے پن کو سست کرنے میں مددگار سمجھے جاتے ہیں۔
مزید یہ بھی دیکھا گیا کہ چائے کا مثبت اثر موٹاپے کا شکار خواتین میں زیادہ نمایاں تھا، جبکہ کافی کے منفی اثرات اُن خواتین میں زیادہ شدید پائے گئے جو الکحل کا استعمال کرتی تھیں۔
بغیر مبالغہ کے نصیحت
محققین نے اس بات پر زور دیا کہ اس تحقیق کے نتائج طرزِ زندگی میں کسی بڑی یا سخت تبدیلی کا تقاضا نہیں کرتے۔ نہ کافی کو مکمل طور پر چھوڑنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی چائے کا حد سے زیادہ استعمال مطلوب ہے۔پروفیسر لیو نے وضاحت کی کہ:اعتدال کے ساتھ کافی پینا محفوظ ہے، لیکن اس کا زیادہ استعمال شاید بہترین انتخاب نہ ہو۔ اس کے برعکس روزانہ ایک کپ چائے پینا ایک سادہ عادت ہو سکتی ہے، جو عمر کے ساتھ ہڈیوں کی صحت کو سہارا دیتی ہے۔اگرچہ کیلشیم اور وٹامن (ڈی) بدستور ہڈیوں کی صحت کی بنیادی بنیادیں ہیں، تاہم یہ تحقیق اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ہم روزمرہ اپنی پیالیوں میں کیا ڈالتے ہیں، وہ بھی ایک اضافی کردار ادا کر سکتا ہے۔ چائے کو معمول بنانا اور کافی کے زیادہ استعمال سے گریز جیسی چھوٹی مگر متوازن عادات وقت کے ساتھ مجموعی طور پر مثبت فرق پیدا کر سکتی ہیں۔