توجہ مرکوز کرنے والی ایپس: مدد کرتی یا وقت ضائع کرتی ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مسلسل ذہنی انتشار اور سمارٹ فونز کی لت کے سائے میں ایپس کی ایک ایسی قسم سامنے آئی ہے جسے "فوکس ایپس" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایپس صارفین سے وعدہ کرتی ہیں کہ وہ بغیر کسی مداخلت کے اپنے کام مکمل کرنے میں ان کی مدد کریں گی۔

ویب سائٹ "سائنس الرٹ" کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ایپس ٹائم ٹائمرز، خلل ڈالنے والی ایپس پر پابندی اور ڈیجیٹل انعامی نظام جیسے اوزاروں پر انحصار کرتی ہیں جو توجہ مرکوز رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان ایپس کا نظریہ ایک سادہ سے اصول پر مبنی ہے کہ جب آپ کام کا سیشن شروع کرتے ہیں تو ایپ آپ سے ایک مخصوص مدت کے لیے سوشل میڈیا یا تفریحی ایپس سے دور رہنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں اگر آپ سیشن کے اختتام تک توجہ مرکوز رکھتے ہیں تو آپ کو علامتی انعامات دیتی ہے۔

ان کی ضرورت کیوں ہے؟

نفسیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ توجہ مرکوز کرنے میں دشواری ہماری ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ "خود کی تنظیم" کی کمزوری کی وجہ سے ہے۔ جب کام بورنگ یا دباؤ والا لگتا ہے تو ہم فوری سکون تلاش کرتے ہیں اور اکثر سمارٹ فون ہی سب سے آسان آپشن ہوتا ہے۔ چاہے ہمارے کام کی تکمیل میں خلل ہی کیوں نہ پڑجائے ہم سمارٹ فون میں منہمک ہوجاتے ہیں۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ بہت سے کاموں کو ایک ساتھ کرنا اور مسلسل ڈیجیٹل الرٹس کچھ لوگوں میں ذہنی انتشار کو بڑھاتے ہیں۔ اس سے جدید کام کے ماحول میں توجہ مرکوز کرنا ماضی کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

فوکس ایپس کیسے کام کرتی ہیں؟

فوکس ایپس "گی میفیکیشن" (Gamification) کے طریقے پر انحصار کرتی ہیں۔ یعنی غیر تفریحی تناظر میں گیم کے عناصر کا استعمال کرتی ہیں۔ محض وقت گننے کے بجائے، یہ ایپس صارف کو جاری رکھنے کی ترغیب دینے کے لیے ورچوئل کردار، پوائنٹس اور انعامات شامل کرتی ہیں۔ ایک نمایاں مثال ’’ Focus Friend ‘‘ ایپ ہے جو صارف سے فوکس ٹائمر سیٹ کرنے کا کہتی ہے۔ ایک ورچوئل کردار پس منظر میں کام کرتا ہے۔ اگر صارف فوکس موڈ سے باہر نکلتا ہے اور ممنوعہ ایپس کھولتا ہے تو ترقی رک جاتی ہے اور انعامات غائب ہو جاتے ہیں جو کام جاری رکھنے کے لیے ایک نفسیاتی محرک پیدا کرتا ہے۔

کیا یہ نظریہ کامیاب ہوتا ہے؟

ابھی تک فوکس ایپس کی تاثیر پر سائنسی شواہد محدود ہیں۔ کچھ مطالعات نے ظاہر کیا ہے کہ یہ ایپس صارفین کو پسند آتی ہیں لیکن انہیں ہمیشہ طویل مدتی طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔ یہ سادہ حلوں کے مقابلے میں کم موثر ہو سکتی ہیں۔ ان سادہ حلوں میں نوٹیفیکیشنز کو کم کرنا یا فون کو گرے سکیل موڈ پر منتقل کرنا شامل ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایپ کے استعمال کی لذت کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں ہے کہ پیداواری صلاحیت میں بہتری آئی ہے کیونکہ حقیقی توجہ کا اندازہ صرف ان منٹوں سے نہیں لگایا جاتا جو ہم نے فون سے دور گزارے بلکہ اس کام کے معیار سے لگایا جاتا ہے جو مکمل کیا گیا۔

فائدہ کیسے اٹھایا جا سکتا ہے؟

اگر آپ کو کام کے دوران اپنے فون کو چیک کرنے کی خواہش کو روکنے میں دشواری ہوتی ہے تو فوکس ایپس ایک مددگار اوزار کے طور پر آپ کی مدد کر سکتی ہیں تاہم یہ حتمی حل کے طور پرمدد نہیں کرتیں۔ ماہرین واضح کاموں کے تعین کے ساتھ مخصوص سیشنز میں ان کے استعمال اور استعمال کی ایک مدت کے بعد ان کے فائدے کا اندازہ لگانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ماہرین ان پر مکمل انحصار کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہیں کیونکہ یہ ایپس ذہنی انتشار کی گہری وجوہات جیسا کہ بے چینی، تھکن یا تحریک کی کمی کا علاج نہیں کر سکتیں۔ آخر میں سب سے مؤثر حل شاید یہ سمجھنا ہے کہ کون سی چیز ہمیں منتشر کر رہی ہے ۔ محض ایک نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بجائے ہمیں اس حوالے سے شعوری فیصلے کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں