خبردار! فون میں موجود ڈیجیٹل منشیات دماغی توجہ کو متاثر کرنے لگیں
ڈیجیٹل دور میں نشہ اب سرنج یا گولی کا محتاج نہیں رہا، بلکہ خاموشی سے موبائل اسکرین میں سرایت کر چکا ہے۔ بظاہر مفت تفریح کے نام پر پیش کی جانے والی ایپس دراصل انسان کی توجہ، شعور اور ذہنی صحت کی قیمت وصول کر رہی ہیں—اور یہی پوشیدہ لت آج کے انسان کے لیے ایک نیا اور خطرناک چیلنج بن چکی ہے۔
یہ انکشاف ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں ماہرین نے اس رجحان کے حوالے سے کیا جسے ’’رویّاتی کوکین‘‘ (Behavioral Cocaine) کہا جا رہا ہےاور جو خاموشی سے سماجی سلامتی اور انسانی شعور کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
مرکز العرب برائے تحقیق میں مصنوعی ذہانت یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر محمد محسن رمضان نے خبردار کیا کہ اس قسم کی لت بظاہر معمول کی سرگرمیوں پر مبنی ہوتی ہے، جیسے نوٹیفکیشنز سے غیر معمولی وابستگی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ مسلسل تعامل۔
انسانی کمزوری کا استحصال
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ پلیٹ فارمز ایسے الگورتھمز کے ذریعے چلائے جاتے ہیں جو انسانی کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر نہایت باریکی سے تیار کیے گئے ہوتے ہیں۔ یہ الگورتھمز دماغ کے انعامی مراکز کو اسی طریقے سے متحرک کرتے ہیں جیسے روایتی منشیات جس کے نتیجے میں ڈوپامین کی سطح غیر فطری طور پر بڑھ جاتی ہے اور انسان اپنی توجہ پر قابو کھو بیٹھتا ہے۔یہ عمل بتدریج توجہ میں کمی، نیند کی خرابی، بے چینی میں اضافہ اور تنقیدی سوچ و درست فیصلہ سازی کی صلاحیت میں کمزوری کا سبب بنتا ہے۔
ڈاکٹر رمضان نے زور دیا کہ یہ اثرات اچانک ظاہر نہیں ہوتے بلکہ آہستہ آہستہ جمع ہو کر فرد کے روزمرہ رویّے کا حصہ بن جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈیجیٹل استنزاف افراد کو سائبر جرائم کے لیے آسان ہدف بنا دیتا ہے، کیونکہ تنقیدی تجزیے کی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے، جس کے باعث لوگ دھوکہ دہی، میڈیا پروپیگنڈا اور ڈیجیٹل بلیک میلنگ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دوسری جانب مصر کے سابق معاون وزیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل خالد حمدی نے اس رجحان کو محض نفسیاتی مسئلہ نہیں بلکہ سیکورٹی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ رویّاتی کوکین اب ’’سماجی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ‘‘ بن چکی ہے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں انہوں نے نشاندہی کی کہ اجتماعی شعور کو کمزور کرنا افواہوں اور گمراہ کن مواد کے پیچھے چلنے کو آسان بنا دیتا ہے، جسے مشکوک ایجنڈے مصنوعی ذہانت کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے یا رائے عامہ کو موڑنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
سائبر تربیت کی ضرورت
لیفٹیننٹ جنرل حمدی نے زور دیا کہ بچے اور نو عمر افراد اس خطرے کا سب سے زیادہ شکار ہیں، کیونکہ ان کے دماغ میں کنٹرول کے مراکز ابھی مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتے۔
انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ’’توجہ کی معیشت‘‘ کا حصہ قرار دیا، جہاں صارف کی توجہ ایک ایسی جنس بن جاتی ہے جسے مشتہرین کو فروخت کیا جاتا ہےبغیر اخلاقی ذمہ داری یا ذہنی صحت کا خیال رکھے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی جائے، جس میں تعلیمی اور ابلاغی پالیسیوں کے اندر ’’سائبر تربیت‘‘ کے تصورات شامل کیے جائیں، خاندان کے کردار کو باخبر ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے مضبوط بنایا جائے اور ایسے قانونی فریم ورک تشکیل دیے جائیں جو ٹیکنالوجی کی جدت اور انسانی شعور کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کر سکیں۔
آخر میں لیفٹیننٹ جنرل خالد حمدی نے اس بات پر زور دیا کہ جدید سائبر سیکیورٹی اب صرف ڈیٹا کے تحفظ تک محدود نہیں رہی بلکہ ’’انسانی ذہن کے تحفظ‘‘ سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے بقول جو شخص اپنی توجہ پر قابو کھو دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ انتخاب کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتا ہے،اسی لیے اس رجحان کا مقابلہ کرنا آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔