نیند کے دوران ذہن مسائل کیسے حل کرتا ہے؟ حیران کن جوابات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

کیا آپ جانتے ہیں کہ خواب محض خوشگوار مناظر یا خیالی کہانیاں نہیں ہوتے، بلکہ وہ آپ کے دماغ کے لیے ایک زبردست ورکشاپ کا کام بھی کرتے ہیں؟

حالیہ امریکی تحقیق نے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ انسانی دماغ شاید نیند کے دوران بھی اپنے حل نہ ہونے والے مسائل پر کام کر سکتا ہے۔ "نورث ویسٹرن" یونیورسٹی الینوائے کے سائنسدانوں نے REM نیند کے دوران خوابوں کے مواد پر اثر ڈال کر دیکھا کہ کس طرح یہ عمل رضاکاروں کے مسائل سے نمٹنے کے طریقے میں واضح تبدیلی پیدا کرتا ہے۔

اس مطالعے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جب ہم جاگتے ہوئے کسی مشکل میں الجھے ہوتے ہیں، تو ہماری نیند اور خواب بھی ایک تخلیقی حل تلاش کرنے کے لیے فعال ہو سکتے ہیں۔ خواب اب صرف رات کے لمحے نہیں، بلکہ دماغ کی ذہنی مشق اور تخلیقی سوچ کا اہم مرحلہ ثابت ہو رہے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خواب انسانی مسائل حل کرنے کے عمل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات نے طویل عرصے سے مشاہدہ کیا ہے کہ جب انسان کچھ دیر کے لیے مشکلات سے دھیان ہٹا لیتا ہے تو اکثر اسے حل اچانک مل جاتا ہے، لیکن خوابوں اور ان کے اثرات کا مطالعہ مشکل رہا کیونکہ کوئی مؤثر طریقہ نہیں تھا جس سے بغیر جاگائے خوابوں کا مواد دیکھا یا اسے ہدایت دی جا سکے۔

نورث ویسٹرن کے تحقیقی ٹیم نے خوابوں کے مواد کو کنٹرول کرنے کے امکان پر شواہد حاصل کیے۔ یہ نتائج اس خیال کی تائید کرتے ہیں کہ REM نیند کے دوران، جب آنکھیں تیز حرکت کرتی ہیں، واضح خواب سامنے آتے ہیں اور اس دوران دماغ میں تخلیقی سوچ کا عمل ہوتا ہے۔

اس مطالعے کو Neuroscience of Consciousnessجرنل میں شائع کیا گیا۔تحقیق میں Targeted Memory Reactivationنامی تکنیک استعمال کی گئی، جس میں مخصوص آوازیں چلائی گئیں جب رضاکار پہیلی حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور پھر وہی آوازیں نیند کے دوران چلائی گئیں۔

اس طریقے کا مقصد یہ تھا کہ دماغ کو ان مسائل کی یاد دہانی کروائی جائے جو جاگنے کے دوران حل نہیں ہو سکے اور اسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ خوابوں میں ان مسائل یا پہیلیوں سے متعلق تخلیقی خیالات پیدا کرے۔ یہ طریقہ مؤثر ثابت ہوا، کیونکہ 75 فیصد شرکاء نے نیند کے دوران ایسے خواب دیکھے جو ان کے حل نہ ہونے والے مسائل سے متعلق تھے، ان میں سے 42 فیصد نے خواب کے اثر سے پہیلیوں کو حل کر لیا، جبکہ وہ لوگ جو اس طریقہ سے متاثر نہیں ہوئے، صرف 17 فیصد کامیاب ہوئے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ نتائج براہِ راست ثابت نہیں کرتے کہ خواب میں مسئلے کے بارے میں سوچنا ہمیشہ حل فراہم کرتا ہے، کیونکہ دیگر عوامل بھی اثر ڈال سکتے ہیں، جیسے کسی مسئلے پر زیادہ توجہ دینا۔

تحقیق کے ٹیم کے سربراہ کِن بالرپروفیسر نفسیات واين برگ کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز نے SciTech Dailyکو بتایا کہ:آج کے مسائل اکثر تخلیقی حل چاہتے ہیں اور دماغ کی تخلیقی سوچ کے طریقہ کو سمجھ کر ہم اپنے مسائل کے حل کے قریب پہنچ سکتے ہیں اور اس عمل کو ہمSleep Engineeringکہتے ہیں۔

تجربے میں 20 رضاکار شامل تھے، جنہیں پہلے سے خواب یاد رکھنے کا تجربہ تھا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ مشکل پہیلیوں کو تین منٹ میں حل کرنے کی کوشش کریں اور ہر پہیلی کے دوران مخصوص صوتی کلپ چلائے جائیں۔

زیادہ تر شرکاء کو پہیلیاں حل کرنے میں دشواری ہوئی۔ پھر رضاکاروں کو رات بھر لیب میں نیند گزارنے کو کہا گیا، جہاں ان کے حیاتیاتی اور ذہنی افعال کو polysomnography کے ذریعے مانیٹر کیا گیا۔ وہی آوازیں نصف پہیلیوں کے لیے دوبارہ چلائی گئیں تاکہ یادیں متحرک کی جا سکیں۔

جاگنے کے بعد رضاکاروں سے خواب سنانے کو کہا گیا۔ تجزیے سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر خوابوں میں پہیلیوں یا ان سے متعلق خیالات شامل تھے۔

12 میں سے 12 شرکاء نے خواب میں پہیلیوں یا ان سے متعلق مناظر دیکھے اور ان میں سے زیادہ تر نے پہیلیاں دوبارہ حل کرنے پر صحیح جواب دیا۔ ان لوگوں کی مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت 20 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد ہو گئی۔

ماہرہ کارین کونکولی جو نورث ویسٹرن یونیورسٹی سے نفسیات میں پی ایچ ڈی ہیں نے بتایا کہ سب سے بڑی حیرت یہ تھی کہ آوازیں غیر شعوری خوابوں پر بھی اثر ڈال رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ: ایک رضاکار نے خواب میں کسی سے مدد مانگی، دوسرا رضاکار خواب میں جنگل میں چل رہا تھا جبکہ اس کی پہیلی درخت کی شکل کی تھی اور تیسری رضاکارہ نے خواب میں مچھلیاں پکڑنے کا خواب دیکھا جبکہ وہ پہیلی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

کونکولی کے مطابق یہ کہانیاں ظاہر کرتی ہیں کہ صوتی محرکات کے ذریعے خوابوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ آئندہ کے اقدامات میں یہ تکنیک استعمال کر کے جذباتی توازن، سیکھنے کی صلاحیت اور دیگر خوابوں کے افعال کا مطالعہ کیا جائے گا۔

کونکولی نے کہا:اگر سائنسدان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خواب مسائل کے حل، تخلیقی صلاحیت اور جذباتی توازن کے لیے اہم ہیں، تو ہم امید کرتے ہیں کہ لوگ خوابوں کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھیں اور انہیں ذہنی صحت کے لیے اولین ترجیح دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں