سب کا دوست بننے والا شخص کسی کا بھی حقیقی دوست نہیں ہوتا: ماہر فلسفہ ارسطو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ارسطو جو قدیم یونان کے نمایاں فلسفیوں میں سے ایک ہیں، نے ایک مقولے میں کہا کہ صداقتی تعلقات میں وفاداری، انتخاب اور مخلصانہ دیکھ بھال ضروری ہے۔

اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص سب کا دوست بننے کی کوشش کرتا ہے، اکثر وہ سطحی یا کمزور تعلقات میں پھنس جاتا ہے، جبکہ گہری اور بامعنی اور دیرپا دوستی قائم نہیں ہو پاتی، جیسا کہ Economic Times میں بیان کیا گیا ہے۔

سچی دوستی

ارسطو تاریخ کے سب سے اثرورسوخ فلسفیوں میں سے تھے اور انہیں اکثر ''مغربی فلسفے کا باپ'' کہا جاتا ہے۔ ان کے خیالات نے زندگی، محبت، فطرت اور دوستی کے بارے میں نئے زاویے پیش کیے۔

ان کا یہ قول سچی اور مخلص دوستی کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ بظاہر سب سے دوستانہ رویہ قابل تعریف لگتا ہے، لیکن فلسفی کے مطابق یہ عمومی دوستانہ رویہ اکثر گہرائی، وفاداری اور اخلاص سے خالی ہوتا ہے۔

سچے اور جھوٹے دوست میں تمیز

ارسطو کے مطابق جو شخص سب سے دوستی کرتا ہے، شاید کسی کا حقیقی دوست نہ ہو۔ تاہم سچے دوست اور جھوٹے دوست میں فرق کرنے کے لیے یہ نکات مددگار ہیں:

مشکل وقت میں حمایت: سچا دوست مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہوتا ہے، مخلصانہ مشورہ دیتا ہے اور بغیر کسی توقع کے مدد کرتا ہے۔ جھوٹا دوست صرف تفریح یا فائدے کے لیے موجود ہوتا ہے اور مشکلات آنے پر غائب ہو جاتا ہے۔

صدق اور اعتماد: سچا دوست اپنے دوست سے سچائی سے بات کرتا ہے، چاہے وہ کڑوی ہی کیوں نہ ہو اور اس کے رازوں کا احترام کرتا ہے۔ جھوٹا دوست خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولتا ہے یا افواہیں پھیلاتا ہے۔

وقت اور کوشش: سچا دوست اپنے دوست کے لیے وقت نکالتا ہے، باقاعدگی سے رابطہ رکھتا ہے اور اس کی پرواہ کرتا ہے۔ جھوٹا دوست صرف اپنی ضرورت پر رابطہ کرتا ہے یا جب اسے فائدہ ملے۔

کامیابی میں خوشی: سچے دوست اپنے دوست کی کامیابی پر خوش اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ جھوٹے دوست حسد یا منفی تبصرے کرتے ہیں اور کامیابی کو کم تر دکھاتے ہیں۔

باہمی احترام: سچے دوست دوست کے خیالات، حدود اور جذبات کا احترام کرتے ہیں، جبکہ جھوٹے دوست ان کا استحصال کرتے ہیں یا جذبات کی پرواہ نہیں کرتے۔

حقیقی روابط

ارسطو کے مطابق سچی دوستیاں اعتماد، عزم اور باہمی سمجھ پر قائم ہوتی ہیں۔ حقیقی تعلقات بنانے کے لیے وقت اور جذباتی کوشش کی ضرورت ہے۔ جو شخص سب کا دوست بننے کی کوشش کرتا ہے، وہ اپنی توانائی بکھیر دیتا ہے، جس سے بامعنی اور قابل اعتماد تعلقات قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر کوئی ہمیشہ سب کے لیے دستیاب ہو، تو وہ ممکنہ طور پر کسی طرفداری سے گریز کرتا ہے یا مخلصانہ رائے دینے سے ہچکچاتا ہے۔ ایسے لوگ مشکل وقت میں دوست کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت نہیں رکھتے کیونکہ وہ سب کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں، جس سے سچی دوستی کمزور ہو جاتی ہے۔

ارسطو کا یہ بھی کہنا تھا کہ دوستی بغیر وفاداری کے قائم نہیں رہ سکتی۔ تنازع یا چیلنج کے لمحے میں سچا دوست اپنے دوست کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، چاہے اس کا مطلب دوسروں سے اختلاف ہو۔

جو شخص سب سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ یہ وفاداری ظاہر کرنے سے ہچکچاتا ہے اور نتیجتاً اس کے تعلقات سطحی رہ جاتے ہیں۔

معیار زیادہ اہم مقبولیت کم

ارسطو کے نزدیک دوستی کو مقبولیت سے نہیں بلکہ معیار سے ناپا جاتا ہے۔ یہ کہ کوئی شخص بہت سے لوگوں میں مقبول ہو، اس کا مطلب یہ نہیں کہ چند لوگوں میں قابل اعتماد ہے۔سچے دوست ایک دوسرے کو گہرائی سے جانتے ہیں، ذاتی تجربات شیئر کرتے ہیں اور بلا شرط ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ یہ قربت وہ سطح حاصل نہیں کر سکتی جو ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش میں مصروف ہو۔

یہ قول یاد دلاتا ہے کہ سچی دوستیاں گہرائی، صداقت اور وفاداری کا تقاضا کرتی ہیں۔ جو شخص سب کا دوست بننے کی کوشش کرتا ہے، وہ اکثر کسی کا حقیقی دوست نہیں بن پاتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں