درعیہ: پہلی سعودی ریاست میں مقام کی عبقریب اور امام کی مہارت کی نشانی
پہلی سعودی ریاست کا دارالحکومت درعیہ تھا اور اس نے اپنی اہمیت کئی عوامل سے حاصل کی تھی۔ ان میں سرفہرست امام محمد بن سعود کی جانب سے خطے کے مقام کی عبقریت اور انسانی شعور کا بہترین سیاسی استعمال تھا۔ انہوں نے مستقبل کی سمت متعین کی جس کے نتیجے میں زید بن مرخان کے قتل کے بعد درعیہ کے لوگوں نے 1139ھ (1727ء) میں ان کی بیعت کی تھی۔ امام محمد بن سعود نے اپنی حکمت سے ایک ایسے وجود کی بنیاد رکھی جس نے بعد میں دنیا کی قیادت میں حصہ لیا۔ ریاست ایک روایتی شہری ریاست سے نکل کر ایک ایسی جدید ریاست بن گئی جو انسانی عنصر اور اداروں پر مبنی تھی۔
زمانے کے ساتھ تشکیل
ریاض کے شمال مغرب میں وادی حنیفہ کے کناروں پر واقع درعیہ کے جغرافیائی مقام نے اسے ہر دور میں اہم بنائے رکھا ہے۔ اس کے سٹریٹجک مقام نے اسے ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھنے کے قابل بنا دیا۔ اسی وجہ سے یہ مقام زوال کے بعد بھی قائم رہا ہے۔
"العوجا" کی فطرت اور ریاست کی طاقت
سعودی تاریخ کے ذمہ دار ثقافتی ادارے "دارۃ الملک عبدالعزیز" کی ایک تحقیق ، جو یوم تاسیس (22 فروری) کے موقع پر شائع ہوئی، کے مطابق اس مقام کو "العوجا" کہا گیا جس سے "اہل العوجا" کا لقب بھی نکلا۔ العوجا درعیہ کے لوگوں کی پہچان بن گیا اور اس نے بعد میں پورے عارض خطے کو شامل کر لیا۔ شہر نے اپنے جغرافیائی محل وقوع اور قدرتی مناظر سے ریاست کی بقا اور مضبوطی کے لیے بہت اہمیت حاصل کرلی۔
انسان اور زمین کا استعمال
درعیہ کی اہمیت انسان کی جانب سے زمین کے معاشی استعمال میں ہے ۔ پھر مواصلات اور رابطے کی تحریک پر اس کے گہرے اثرات بھی اس کی اہمیت بتاتے ہیں۔ درعیہ نے ریاست کے مرکز کو دور دراز علاقوں سے جوڑ کر اسے متحد رکھا۔
زمین میں موجود خزانے
درعیہ کو میسر قدرتی عوامل میں رسوبی چونا پتھر شامل ہے جس نے تعمیرات میں مدد دی۔ اس کے علاوہ یہاں پانی کی کثرت تھی جو زیر زمین چٹانوں میں بڑے ذخائر کی صورت میں موجود تھی جہاں تقریباً 357 کنویں پائے گئے۔
غذائی استحکام کا مرکز
پانی اور زرخیز مٹی کی بدولت درعیہ زرعی استحکام کا مرکز بن گیا اور نجد کے نخلستانوں میں سے ایک بن گیا۔ کھجور کی کاشت یہاں کا اہم پیشہ بن گیا۔ اس کو بعد میں سعودی ریاست کے سرکاری نشان (لوگو) میں ترقی اور خوشحالی کی علامت کے طور پر شامل کیا گیا۔
شہروں کی قلعہ بندی
امام محمد بن سعود نے آغاز ہی سے قلعہ بندی کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا۔ وہ کسی بھی بڑے شہر کا کنٹرول سنبھالتے تو وہاں ایک علیحدہ مضبوط قلعہ تعمیر کرتے تھے۔ اس کے گرد خندق کھودتے اور وہاں تقریباً 500 فوجی تعینات کرتے تھے۔
امام کی آمد کے بعد دارالحکومت
درعیہ کی تاریخ 15ویں صدی عیسوی سے شروع ہوتی ہے جب یہ ایک چھوٹا قصبہ تھا لیکن یہ ایک بڑی ریاست کا دارالحکومت اس وقت بنا جب 1727 عیسوی میں امام محمد بن سعود نے پہلی سعودی ریاست کی باگ ڈور سنبھالی۔
ثقافت کی آبیاری
یہ تاریخ چار طویل ادوار پر محیط ہے جس نے معاشرے کے شعور اور لاشعور میں اپنی روایات راسخ کیں۔ ان میں قدیم تاریخ، اسلام کا ظہور، پہلی سعودی ریاست سے قبل کا دور اور پھر شہری ریاست سے سعودی ریاست میں منتقلی شامل ہے۔
مقام، شخصیت اور استحکام کے عناصر
1727ء میں درعیہ کے مقام اور امام محمد بن سعود کی شخصیت نے نجد اور جزیرہ نما عرب کی تاریخ میں ایک واضح لکیر کھینچ دی۔ یہاں اس سے قبل انتشار، جنگیں اور قبائلی تنازعات عام تھے۔ امام محمد بن سعود کے اقتدار میں آنے سے یہ خانہ جنگی ختم ہوئی اور پہلی سعودی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔
عہدِ رسالت کے بعد پہلی متحد ریاست
انگریز سیاح لیڈی این بلنٹ نے سعودی ریاست کے اتحاد اور استحکام کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلی سعودی ریاست عہدِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پہلی عرب ریاست ہے جس نے جزیرہ نما عرب کو شریعت اور منظم انتظامی ڈھانچے کی بنیاد پر ایک جھنڈے تلے متحد کیا تھا۔
آج کا درعیہ
تمام تاریخی داستانوں کے بعد درعیہ آج کے دور میں سعودی عرب کے اہم ترین ثقافتی، سیاحتی اور ترقیاتی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ سعودی ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے تحت تاریخی ورثے اور جدید تعمیراتی نشاۃ ثانیہ کا حسین سنگ میل ہے۔