ایک ایسی آواز جو کبھی مدھم نہیں ہوتی... محمد رفعت اور رمضان میں لازوال اذان کا سفر
آج تک ان کے علمی و صوتی ورثے کی حفاظت کا سہرا ایک ایسے مخلص چاہنے والے کے سر ہے جس سے ان کی کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی
رمضان کی راتوں میں جب غروبِ آفتاب قریب ہوتا ہے اور افطار کی تیاری میں دن کا شور تھمنے لگتا ہے، تو ایک ایسی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے جو جسم سے پہلے روح کو بیدار کر دیتی ہے۔ یہ شیخ محمد رفعت کی آواز ہے، جنھیں ان کی بے مثال قرات کی وجہ سے "قیثارۃ السماء" (آسمانی سریلی آواز) کے لقب سے جانا جاتا ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز میں قاہرہ کے محلے 'المغربلین' میں پیدا ہونے والے شیخ محمد رفعت بچپن میں ہی بینائی سے محروم ہو گئے تھے، مگر اللہ نے انہیں بصیرت اور ایک ایسی منفرد آواز سے نوازا جس میں قوت اور رقت کا حسین امتزاج تھا۔ جب 1930 کی دہائی میں مصری ریڈیو کا آغاز ہوا، تو شیخ محمد رفعت وہ پہلی شخصیت تھے جن کی آواز میں قرآن کریم کی تلاوت فضاؤں میں گونجی۔ اس لمحے سے ان کا نام مصری اور عرب گھرانوں کی یادوں کا حصہ بن گیا۔
رمضان میں مغرب کی اذان کے وقت ان کی آواز ایک لازمی علامت بن چکی ہے۔ کئی نسلیں ان کی پرسوز آواز پر روزہ افطار کرتے ہوئے جوان ہوئی ہیں۔ ان کی وفات کو 70 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر آج بھی مصر کے بیشتر چینلز پر مغرب کی اذان انہی کی آواز میں نشر کی جاتی ہے۔ یہ محض ایک میڈیا کی روایت نہیں، بلکہ اس مقدس مہینے کی روحانیت کا ایک ناگزیر حصہ بن چکی ہے۔
ان کے صوتی ورثے کے محفوظ ہونے کی کہانی بھی دل چسپ ہے۔ ریڈیو پر ان کی براہِ راست تلاوتوں کو محفوظ کرنے کا سہرا 'زکریا پاشا مہران' کے سر ہے، جو ان کی آواز کے دیوانے تھے۔ انہوں نے جرمنی سے خاص طور پر دو گراموفون منگوائے تاکہ ریڈیو سے نشر ہونے والی تلاوتوں کو ریکارڈ کر سکیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کے اہل خانہ نے یہ ریکارڈنگز شیخ کے ورثاء کو دے دیں، ورنہ آج دنیا اس عظیم سرمائے سے محروم ہوتی۔
آج شیخ محمد رفعت کے بیٹے اور پوتے اس علمی و روحانی امانت کی حفاظت کر رہے ہیں۔ انہوں نے پرانی ریکارڈنگز کو جدید ڈیجیٹل فارمیٹ میں منتقل کیا ہے اور تقریباً 30 گھنٹے کی تلاوتیں بلا معاوضہ ریڈیو کو ہدیہ کی ہیں۔ جی ہاں "قیثارۃ السماء" کی یہ آواز آج بھی رمضان میں ماضی کی یاد بن کر نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت بن کر گونجتی ہے، جو زمین اور آسمان کے درمیان ایک روحانی پل کا کام کرتی ہے۔