سائنس دانوں کی انسانی ذہانت کے راز کی وضاحت
کئی دہائیوں تک سائنس دانوں نے توجہ، یادداشت، زبان اور سوچ جیسے دماغی افعال کو الگ الگ دماغی نیٹ ورکس سے منسلک کر کے ان کے نقشے تیار کیے۔
تاہم ایک بڑا سوال ہمیشہ باقی رہا: انسانی ذہن ایک مربوط اور واحد نظام کی طرح کیوں کام کرتا ہے؟اب نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے محققین نے اس راز کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
ان کے مطابق ذہانت دماغ کے کسی ایک خاص ذہین حصے میں موجود نہیں ہوتی بلکہ یہ دراصل دماغ کے مختلف نیٹ ورکس کے درمیان مؤثر رابطے، ہم آہنگی اور لچکدار تعاون کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔
یونیورسٹی کے محققین نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے جدید نیورو امیجنگ (دماغی تصویری) ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔
اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ دماغ مجموعی طور پر کس طرح منظم ہے اور یہ تنظیم انسانی ذہانت کے پیدا ہونے میں کس طرح کردار ادا کرتی ہے۔
اس حوالے سے آرون باربی، جو نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات میں پروفیسر ہیں، ان کا کہنا ہے:عصبی سائنس نے مخصوص دماغی نیٹ ورکس کے افعال کو سمجھنے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن یہ پوری طرح نہیں بتا سکی کہ مختلف نیٹ ورکس کے باہمی تعامل سے ایک متحد اور مربوط ذہن کیسے تشکیل پاتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کافی عرصے سے یہ بھی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ توجہ، یادداشت، ادراک اور زبان جیسی مہارتیں اکثر ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ یعنی جو لوگ کسی ایک میدان میں بہتر ہوتے ہیں، وہ عموماً دوسرے شعبوں میں بھی اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔
اس رجحان کو عمومی ذہانت (General Intelligence) کہا جاتا ہے۔یہ عمومی ذہانت اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ انسان سیکھنے، مسائل حل کرنے اور تعلیمی، پیشہ ورانہ، سماجی اور صحت کے ماحول میں خود کو کس طرح ڈھالتا ہے۔
ایک صدی سے زیادہ عرصے سے یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانی ادراک بنیادی طور پر ایک گہری سطح پر متحد ہوتا ہے، مگر سائنس دانوں کے پاس اب تک اس اتحاد کی واضح سائنسی وضاحت موجود نہیں تھی۔
نیٹ ورک نیورو سائنس
اس وسیع نقطۂ نظر کو سمجھنے کے لیے آرون باربی اور ان کی ٹیم نے جس میں نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے گریجویٹ طالب علم اور تحقیق کے مرکزی مصنف رامزی ولکوکس بھی شامل تھے، ایک فریم ورک کا جائزہ لیا جسے نیٹ ورک نیورو سائنس تھیوری کہا جاتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز (Nature Communications) میں شائع ہوئے۔
اس تحقیق کے دوران ٹیم نے ہیومن کنیکٹوم پروجیکٹ (Human Connectome Project) کے تحت 831 بالغ افراد کے دماغی اسکین اور ذہنی کارکردگی سے متعلق ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔
اس کے علاوہ محققین نے ایک علیحدہ تحقیق INSIGHT اسٹڈی کے تحت 145 بالغ افراد کے ڈیٹا کا بھی جائزہ لیا، جسے SHARP پروگرام کے ذریعے مالی تعاون حاصل تھا۔
یہ پروگرام انٹیلیجنس سے متعلق جدید تحقیقی منصوبوں کی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔دماغ کی ساخت اور اس کے افعال سے متعلق پیمائشوں کو یکجا کر کے محققین دماغ کی مجموعی تنظیم کی ایک تفصیلی تصویر بنانے میں کامیاب ہوئے۔
اس تحقیق کے مطابق ذہانت کو دماغ کے کسی ایک حصے یا مخصوص کام سے جوڑنے کے بجائے نیٹ ورک نیورو سائنس کا نظریہ اسے پورے دماغ کی ایک مشترکہ خصوصیت کے طور پر دیکھتا ہے۔
اس فریم ورک کے مطابق انسانی ذہانت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ دماغ کے مختلف نیٹ ورکس کس حد تک مؤثر انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں اور مختلف چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے خود کو کس طرح دوبارہ منظم کرتے ہیں۔
چار اہم پیش گوئیاں
تحقیق کے نتائج نے نیٹ ورک نیورو سائنس کے نظریے کی چار اہم پیش گوئیوں کی حمایت کی ہے۔
پہلی پیش گوئی:ذہانت دماغ کے کسی ایک نیٹ ورک میں موجود نہیں ہوتی بلکہ یہ متعدد دماغی نیٹ ورکس میں پھیلی ہوئی معلوماتی پروسیسنگ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔
دوسری پیش گوئی:کامیاب ہم آہنگی کے لیے دماغ میں مضبوط اور دور تک پھیلے ہوئے رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ آرون باربی کے مطابق یہ ایک وسیع اور پیچیدہ نظامِ روابط ہے ،جو شارٹ کٹس کی طرح کام کرتا ہے اور دماغ کے دور دراز حصوں کو آپس میں جوڑ کر مختلف نیٹ ورکس کے درمیان معلومات کو یکجا کرتا ہے۔یہ رابطے دماغ کے مختلف اور دور دراز حصوں کو مؤثر طریقے سے معلومات کے تبادلے کی اجازت دیتے ہیں، جس سے مربوط ذہنی عمل ممکن ہوتا ہے۔
تیسری پیش گوئی:یہ انضمام دماغ کے ایسے تنظیمی مراکز پر منحصر ہوتا ہے، جو معلومات کے بہاؤ کو منظم کرتے ہیں۔ یہ مراکز مختلف نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کو ہم آہنگ کرتے ہیں اور ہر کام کے لیے مناسب نظام کا انتخاب کرنے میں مدد دیتے ہیں۔چاہے کوئی شخص باریک اشاروں کو سمجھ رہا ہو، نئی مہارت سیکھ رہا ہو یا گہرے تجزیے اور فوری اندازے کے درمیان فیصلہ کر رہا ہو، یہ تنظیمی علاقے اس پورے عمل کو منظم رکھتے ہیں۔
چوتھی پیش گوئی:عمومی ذہانت اس وقت بہتر طور پر کام کرتی ہے جب مقامی تخصص (Local Specialization) اور عالمی انضمام (Global Integration) کے درمیان توازن قائم ہو۔ یعنی دماغ اس وقت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب مقامی طور پر جڑے ہوئے نیٹ ورکس مضبوطی سے کام کریں اور ساتھ ہی دور دراز علاقوں کے ساتھ مختصر اور مؤثر رابطے بھی برقرار رکھیں۔یہ توازن انسان کو مسائل کو لچک اور مؤثر انداز میں حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔