بچوں میں بھوک بڑھانے کے آسان طریقے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کی خوراک کی پسندیدگی کس طرح ترقی کرتی ہے، اس کو سمجھنا والدین کی مدد کر سکتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو متنوع اور صحت مند غذا سے لطف اندوز ہونے کی تربیت دیں۔

کیثلن کیلر یونیورسٹی آف پنسلوانیا اسٹیٹ میں غذائیت کی سائنس کی پروفیسر ہیں، کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ اور ذاتی کیریئر کا بیشتر حصہ اس بات پر سوچنے میں گزارا کہ بچے کیوں بعض مخصوص قسم کے کھانے پسند کرتے ہیں، جیسا کہ سائنس الرٹ کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔

فطرت یا پرورش؟

اگرچہ جینز بچوں کی خوراک کے انتخاب پر کچھ اثر ڈالتی ہیں، مگر عموماً یہ حقیقت کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی بیان کرتی ہیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگ پیدا ہی اس مزاج کے ساتھ ہوتے ہیں کہ انہیں میٹھا ذائقہ پسند ہوتا ہے اور کڑوا ذائقہ ناپسند۔

یہ خصوصیات غالباً حفاظتی نوعیت کی ہوتی ہیں، کیونکہ یہ بچے کو کیلوریز کے ذرائع کی طرف مائل کرتی ہیں ،جو اکثر میٹھے ہوتے ہیں، جیسے پھل یا ماں کا دودھ اور ممکنہ زہریلے ذائقوں سے دور رکھتی ہیں، جو عموماً کڑوے ہوتے ہیں۔

فطری ردعمل

ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ حاملہ خواتین جنہوں نے میٹھی گاجر کے کیپسول استعمال کیے، ان کے بچے الٹراساؤنڈ تصاویر میں مسکراتے دکھائی دیے، جبکہ وہ خواتین جنہوں نے کڑوی بند گوبھی کے کیپسول استعمال کیے، ان کے بچے کیمرے کے سامنے بھونچکے ہوئے نظر آئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کڑوی سبزیوں سے ابتدائی طور پر دوری اختیار کرتے ہیں۔

ان فطری ردعمل کے علاوہ کچھ جینز بھی موجود ہیں، جو کسی شخص کی کڑوی مرکبات کو چکھنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہ مرکبات تھیوریہ کہلاتے ہیں، جو کریسفی سبزیوں میں پائے جانے والے مرکبات سے مشابہت رکھتے ہیں۔جو لوگ ایسے جینز وراثت میں حاصل کرتے ہیں، جو انہیں کڑوی مرکبات کے لیے حساس بناتے ہیں، وہ عام طور پر دیگر کھانوں میں بھی کڑوا ذائقہ زیادہ محسوس کرتے ہیں۔

اسی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ کچی بروکلی یا سیاہ کافی جیسی غذاؤں کو پسند نہ کریں۔دوسری جانب بہت سے لوگ کڑوی غذاؤں کی طرف رجحان پیدا کر لیتے ہیں، حتیٰ کہ اگر پہلی بار ان کی تجربہ خوشگوار نہ ہو، کیونکہ ایک اور جین کھانے کی پسند پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اگرچہ جینز صرف ذائقے کی حس کا چھوٹا حصہ ہی وضاحت کرتے ہیں، لیکن ماحول میں کھانے کے ساتھ فرد کا تعامل یہ فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کہ وہ کیا کھانا پسند کرتا ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بچے پیدائش سے پہلے ہی کھانے کی چیزوں کو سیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

ایک کلاسیکی تحقیق میں حیاتیاتی نفسیات کی ماہر جولی مینلیلا نے دیکھا کہ حاملہ خواتین جنہوں نے حمل کے دوران یا دودھ پلانے کے دوران ہفتے میں چار دن گاجر کا رس پیا، ان کے بچے پہلی بار گاجر کے ذائقے والے ناشتے کو زیادہ قبول کرنے والے تھے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو ذائقے ایمنیٹک فلوئڈ کے ذریعے جنین تک پہنچتے ہیں، وہ بچے کو مستقبل میں خاندان کے کھانے قبول کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔

اچھی خبر اور مفید نصیحت

اچھی خبر یہ ہے کہ زیادہ تر بچوں میں کھانے کے معاملے میں مشکل پسند ہونا عارضی مرحلہ ہے اور یہ آہستہ آہستہ اسکول کی عمر تک ختم ہو جاتا ہے۔

اگر بچے کی نشوونما معمول کے مطابق ہو، تو پریشانی کی ضرورت نہیں۔والدین جو چاہتے ہیں کہ اپنے بچوں کے ذائقے کے دائرے کو وسیع کریں، وہ بچے کو مختلف کھانے کے ذائقے آزمانے کے بار بار مواقع فراہم کر سکتے ہیں، بغیر کسی دباؤ یا زبردستی کے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بعض بچوں کو کسی نئے کھانے کو قبول کرنے کے لیے 12 یا اس سے زیادہ بار چکھنا ضروری ہوتا ہے۔کچھ بچے اسکول یا پلے سکول میں نئے کھانوں کو آزمانے کے لیے زیادہ کھلے ہوتے ہیں، حالانکہ وہ اسے گھر پر نہیں چکھے ہوتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں