ایران کے مرحوم رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات چار جولائی کو تہران میں شروع ہوں گی اور نو جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں ان کی تدفین کے ساتھ اختتام پذیر ہوں گی۔
خامنہ ای 28 فروری کو ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں کے پہلے دن ہلاک ہو گئے تھے۔ 86 سالہ عالمِ دین 36 سال سے اسلامی جمہوریہ کے سربراہ تھے۔
میڈیا نے بتایا کہ جنازے کے انتظامات میں سات جولائی کو تہران کے جنوب میں مقدس شہر قم میں تقریبات شامل ہوں گی۔
اپنی حکمرانی کے دوران خامنہ ای نے ایران کو ایک طاقتور امریکہ مخالف قوت بنایا اور لبنان میں حزب اللہ جیسی پراکسی قوتوں کے ذریعے پورے شرقِ اوسط میں اپنا فوجی اثر و رسوخ پھیلایا جبکہ ملک میں بدامنی کا پھیلاؤ کچلنے کے لیے آہنی طاقت استعمال کی۔
خامنہ ای اپنی پوری حکومت میں امریکہ کے سخت ناقد رہے جبکہ یکے بعد دیگرے آنے والی امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام کا تنازع حل کرنے کی ناکام کوشش کی۔
ان کا مرکزی تہران احاطہ ایک فضائی حملے میں تباہ ہو گیا۔ ان کے 56 سالہ بیٹے مجتبیٰ جن کی بیوی بھی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئیں اور وہ خود زخمی ہو گئے تھے، اپنے والد کی جگہ سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
دریں اثناء پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ایران اور امریکہ تین ماہ سے زائد جنگ کے بعد امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں اور توقع ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔
-
ایران نے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو الگ تھلگ کر دیا:امریکی میڈیا
سی این این نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اپنے ...
مشرق وسطی -
وزیرِ اعظم پاکستان: امریکہ اور ایران امن معاہدے پر 24 گھنٹوں میں دستخط متوقع ہیں
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور ایران امن معاہدے ...
پاكستان -
ایران: اسلام آباد یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے
ہفتہ کو سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ...
بين الاقوامى