فلم دیکھتے ہوئے رونا انسان کو پرسکون کرنے میں مدد دے سکتا ہے: سائنسی مطالعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ رونے کے جذباتی فوائد کا دارومدار زیادہ تر اس کی وجوہات پر ہوتا ہے۔ جہاں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رونا فوری طور پر جذبات کی شدت کو کم کر دیتا ہے، وہیں 'Collabra: Psychology' نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق بتاتی ہے کہ آنسو بہانا مجموعی طور پر انسان کے موڈ کو بہتر نہیں بناتا۔ سائٹ 'Psypost' کے مطابق رونے کے اثرات نسبتاً قلیل مدتی ہوتے ہیں اور اس کی وجوہات کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔

روزمرہ کا قدرتی ماحول

محققین نے بالغ افراد پر ان کے روزمرہ کے قدرتی ماحول میں رونے کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔ اس سے قبل سائنسدان زیادہ تر لیبارٹری کے تجربات یا سوالناموں پر انحصار کرتے تھے جن میں شرکاء سے ماضی کے واقعات یاد کرنے کو کہا جاتا تھا لیکن یہ روایتی طریقے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ لوگ لیبارٹری میں اپنے آنسو روک سکتے ہیں یا دنوں اور ہفتوں بعد اپنے جذبات کو درست طریقے سے یاد کرنے میں دشواری محسوس کر سکتے ہیں۔

بنیادی انسانی رویہ

تحقیق کے سربراہ اور کارل لینڈسٹینر یونیورسٹی میں شعبہ سائیکالوجی میتھڈولوجی کے سربراہ پروفیسر سٹیفن سٹیگر نے کہا ہے کہ رونا ایک بنیادی انسانی رویہ ہے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ قدرتی ماحول سے مشابہت رکھنے والے حالات میں اس پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اور ان کی تحقیقی ٹیم لمحہ بہ لمحہ جذبات کا جائزہ لینا چاہتے تھے اور ان کا مقصد یہ پیمائش کرنا تھا کہ رونے کے بعد انسان کے موڈ میں تبدیلی آنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔ وہ یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ آیا آنسوؤں کی شدت یا رونے کی وجہ موڈ پر اثر انداز ہوتی ہے یا نہیں۔

فون ایپ

ان سوالات کے جوابات کے لیے محققین نے 4 ہفتوں تک 106 بالغ شرکاء کی نگرانی کی۔ شرکاء میں زیادہ تر آسٹریا اور جرمنی کی خواتین تھیں جن کی اوسط عمر تقریباً 29 سال تھی۔ انہوں نے اپنے تجربات ریکارڈ کرنے کے لیے اپنے سمارٹ فونز پر ایک مخصوص ٹریکنگ ایپ انسٹال کی۔ ان سے کہا گیا کہ جیسے ہی وہ روئیں فوراً ایپ میں اس کا اندراج کریں۔ انہوں نے رونے کی وجہ، شدت، دورانیہ اور اپنے مثبت و منفی جذبات کی سطح درج کی۔ اس کے بعد ایپ نے خود بخود انہیں 15، 30 اور 60 منٹ بعد دوبارہ اپنے موڈ کی اطلاع دینے کی یاد دہانی کرائی۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی رونا رہ نہ جائے۔ محققین نے شرکاء سے روزانہ ایک سوالنامہ پُر کرنے کا بھی کہا۔ اس میں رونے کی ایسی کسی بھی کیفیت کا پتا چل جاتا تھا جسے شاید وہ پہلے درج کرنا بھول گئے ہوں۔ تحقیق نے دن کے دوران ان کی عمومی جذباتی حالت کی بھی پیمائش کی۔ اس سے سائنسدانوں کو یہ تعین کرنے میں مدد ملی کہ ہر شخص ان دنوں میں کیسا محسوس کرتا ہے جن میں وہ نہیں روتا۔

جذباتی رونا

محققین نے دریافت کیا کہ جذباتی رونا ایک بہت عام انسانی رویہ ہے۔ تقریباً 87 فیصد شرکاء چار ہفتوں کے دوران کم از کم ایک بار روئے۔ اس عرصے میں اوسطاً 5 بار رونے کی کیفیات ریکارڈ کی گئیں۔ شرکاء نے فوری طور پر 315 بار رونے کی اطلاع دی۔ شام کے سوالناموں میں مزید 300 ایسی نوبتیں درج کی گئیں جو وہ پہلے بھول گئے تھے۔

خواتین میں رونے کا رجحان زیادہ

مردوں کے مقابلے میں خواتین میں رونے کا رجحان زیادہ تھا۔ مطالعے کے دوران خواتین کے رونے کی اوسط ماہانہ 6 بار رہی۔ مردوں کی اوسط 3 سے کم تھی۔ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ دیر تک اور زیادہ شدت سے بھی روئیں۔ مردوں اور عورتوں کے درمیان وجوہات مختلف تھیں۔ خواتین میں تنہائی یا پیاروں کے ساتھ ذاتی اختلافات کی وجہ سے رونے کا امکان زیادہ تھا۔ مرد بے بسی کے احساس یا کسی میڈیا مواد جیسے غمگین فلم دیکھنے کے ردعمل میں رونے کی طرف مائل تھے۔

سب سے عام وجہ

مجموعی طور پر گروپ میں رونے کی سب سے عام وجہ میڈیا دیکھنا تھی۔ تھکن یا تنہائی کی وجہ سے آنے والے آنسو سب سے شدید اور طویل دورانیے کے تھے جہاں ہر بار رونے کا دورانیہ 11 سے 13 منٹ کے درمیان رہا۔ سٹیگر نے وضاحت کی کہ جذباتی نتائج کا مطالعہ کرنے پر ایسا کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا کہ رونا خود بخود فوری سکون فراہم کرتا ہے۔ جذباتی اثرات کا انحصار تقریباً مکمل طور پر رونے کی مخصوص وجہ پر تھا۔ ذاتی مشکلات، جیسے تنہائی یا تھکن کے ردعمل میں رونے سے مثبت جذبات میں شدید کمی اور منفی جذبات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

طویل عرصے تک منفی جذبات

یہ منفی جذبات طویل عرصے تک برقرار رہے۔ وہ افراد جو تھکن کی وجہ سے روئے تھے ان کے مثبت جذبات ایک گھنٹے بعد بھی معمول سے بہت کم رہے۔ ان ذاتی وجوہات نے باقی دن کے لیے انسان کے عمومی موڈ پر منفی اثر ڈالا حالانکہ اگلی صبح ان کے جذبات معمول پر آگئے تھے۔ دیگر وجوہات سے بہنے والے آنسوؤں نے بالکل مختلف انداز دکھایا۔ میڈیا مواد کی وجہ سے رونے سے شروع میں مثبت اور منفی دونوں جذبات میں کمی آئی۔ اگلے ایک گھنٹے کے دوران منفی جذبات میں کمی کا سلسلہ جاری رہا جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ فلم دیکھتے ہوئے رونا آخر کار انسان کو پرسکون کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

خوشی کے آنسو

جہاں تک خوشی کے آنسوؤں کا تعلق ہے، جیسے کسی اچھے کام پر رونا، تو اس نے انسان کی نفسیاتی حالت کو فوری طور پر تبدیل نہیں کیا۔ شرکاء نے تقریباً 15 منٹ بعد منفی جذبات میں نمایاں کمی محسوس کی۔ آخر میں بے بسی کے احساس سے رونے نے مثبت جذبات میں تیزی سے کمی کی لیکن شرکاء 15 منٹ کے اندر اپنے معمول کے موڈ میں واپس آگئے۔

اگرچہ یہ مطالعہ انسانی جذبات کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرتا ہے لیکن غلط تشریح کے امکانات اور کچھ حدود بھی ہیں جنہیں مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ چونکہ یہ مطالعہ مکمل طور پر خود تشخیصی رپورٹ پر مبنی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ شرکاء نے اپنے جذبات کا اندازہ لگانے میں غلطی کی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ رونے کی کچھ مختصر یا معمولی نوبتوں کی اطلاع دینا بھول گئے ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size