''کینسر زدہ اور انجکشن لگے ہوئے؟'' مصر وزارت نے تربوز سے متعلق افواہیں مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مصر میں تربوز کے بارے میں ایک بار پھر گردش کرنے والی افواہوں، جن میں اسے مہلک بیماریوں کا سبب قرار دیا جا رہا تھا، کے بعد وزارتِ زراعت نے ان خبروں کی مکمل تردید کر دی ہے۔

مصر کے زرعی تحقیقی مرکز کے تحت قائم موسمیاتی تبدیلی معلوماتی مرکز کے سربراہ ڈاکٹر محمد علی فہیم نے واضح کیا کہ ہر سال تربوز کے بارے میں پھیلنے والے دعوے، جیسے یہ ''موسم سے پہلے تیار ہوا ہے''، ''کینسر پیدا کرتا ہے'' یا ''اس پر نقصان دہ اسپرے کیا گیا ہے''، کسی بھی سائنسی بنیاد سے محروم ہیں۔

انہوں نے منگل کے روز فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ مصر میں پیدا ہونے والا تربوز مکمل طور پر محفوظ ہے اور یہ سال بھر مختلف زرعی ادوار کے تحت کاشت کیا جاتا ہے۔

تربوز کے موسم اور پیداوار

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ مختلف اوقات میں بازاروں میں تربوز کا آنا ایک فطری امر ہے، جو ملک کے زرعی نظام سے جڑا ہوا ہے۔

تربوز مختلف جغرافیائی علاقوں میں اور مختلف طریقوں سے کاشت کیا جاتا ہے، اس لیے یہ کسی ایک مخصوص موسم تک محدود نہیں ہوتا جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔

ان کے مطابق تربوز کی پیداوار کے واضح ادوار ہیں: سب سے پہلے اسوان اور گرم علاقوں کا تربوز سردیوں اور ابتدائی بہار میں آتا ہے، اس کے بعد پلاسٹک سرنگوں (گرین ہاؤس) میں اگایا گیا تربوز مارچ کے آخر سے مئی تک دستیاب ہوتا ہے، جبکہ روایتی گرمیوں کا تربوز جون اور جولائی میں کثرت سے مارکیٹ میں آتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فصلوں کے پکنے کے اوقات میں سب سے اہم کردار موسم کا ہوتا ہے۔ موجودہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مختلف علاقوں اور فصلوں کے اوقات میں فرق آ رہا ہے، جو درجہ حرارت، بیج کی قسم اور کاشت کے حالات پر منحصر ہوتا ہے، نہ کہ ان غیر سائنسی وجوہات پر جنہیں سوشل میڈیا پر پھیلایا جاتا ہے۔

سفید گودا اور اندرونی خلا کی حقیقت

ڈاکٹر محمد علی فہیم نے واضح کیا کہ بعض تربوزوں میں سفید گودا یا اندرونی خلا کا ظاہر ہونا ایک قدرتی زرعی مسئلہ ہے، جو درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ، جرگ (پولینیشن) کے مسائل اور موسمی دباؤ کے باعث پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس کا کسی زہریلے مادے یا نقصان دہ کیمیکلز سے کوئی تعلق نہیں۔

مزید برآں انہوں نے زرعی اجناس سے متعلق پھیلنے والی افواہوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی غلط معلومات نہ صرف زرعی شعبے کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ کسانوں کو متاثر کرتی ہیں اور صارفین میں بلاوجہ خوف و ہراس پیدا کرتی ہیں۔

ان کے مطابق ایسی افواہیں مصری مصنوعات کی ساکھ کو بھی غیر ضروری طور پر متاثر کرتی ہیں۔

تربوز کے فوائد

ڈاکٹر محمد علی فہیم نے زور دیا کہ تربوز ایک نہایت مفید پھل ہے، کیونکہ اس میں 90 فیصد سے زائد پانی موجود ہوتا ہے، جو گرمیوں میں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے اور ہیٹ اسٹریس سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس میں لائیکوپین اور سیٹرولین جیسے اہم اجزاء پائے جاتے ہیں جو دل کی صحت اور خون کی روانی کو بہتر بناتے ہیں، جبکہ وٹامن A اور C قوتِ مدافعت، جلد اور آنکھوں کی صحت کے لیے مفید ہیں۔

اس کے علاوہ پوٹاشیئم اور دیگر معدنیات تھکن کم کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ تربوز کا استعمال اعتدال کے ساتھ کیا جائے، خصوصاً ذیابیطس اور گردوں کے مریض احتیاط برتیں اور بھاری کھانوں کے بعد اسے زیادہ مقدار میں نہ کھائیں۔

آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ مصری تربوز مکمل طور پر محفوظ ہے ،انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ زرعی مصنوعات سے متعلق معلومات پھیلانے میں احتیاط کریں اور بغیر ثبوت کسانوں کی پیداوار پر شک کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size