پلاسٹک کے فضلے ماحولیاتی آلودگی کا ایک بڑا سبب ہیں کیونکہ مصنوعی پلاسٹک آہستہ آہستہ باریک ذرات (مائیکرو پلاسٹک) میں تبدیل ہو جاتا ہے جو بسفینول اے (BPA)، فیتھلیٹس اور کینسر کا باعث بننے والے مادوں جیسے نقصان دہ اجزاء خارج کر سکتا ہے۔
سائنس ٹیک ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق ایک زیادہ پائیدار متبادل تلاش کرنے کی کوشش میں رائس یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے سائنس دانوں نے بیکٹیریل سیلولوز کو ایک انتہائی مضبوط اور کثیر المقاصد مادے میں تبدیل کرنے کا ایک نیا طریقہ تیار کیا ہے، جو آگے چل کر پیکیجنگ سے لے کر الیکٹرونکس تک کی مصنوعات میں پلاسٹک کی جگہ لے سکتا ہے۔ جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے نتائج میں ایک ایسے بڑے پیمانے پر قابل استعمال مینوفیکچرنگ عمل کی وضاحت کی گئی ہے جو بیکٹیریا کو انتہائی منظم سیلولوزک ڈھانچے بنانے کی ہدایت دیتا ہے، جس میں غیر معمولی مظبوطی اور بہترین تھرمل کارکردگی پائی جاتی ہے۔
یونیورسٹی آف ہیوسٹن میں مکینیکل اور ایرو اسپیس انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور رائس یونیورسٹی میں مٹیریل سائنس اور نینو انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد مقصود رحمن کی سربراہی میں محققین کی ٹیم نے بیکٹیریل سیلولوز پر توجہ مرکوز کی، جو زمین پر سب سے خالص اور وافر مقدار میں پائے جانے والے قدرتی بائیو پولیمرز میں سے ایک ہے۔
تحقیق کے پہلے مصنف اور رائس یونیورسٹی میں مٹیریل سائنس اور نینو انجینئرنگ کے پی ایچ ڈی کے طالب علم محمد عبد الرحمن سعدی نے بتایا کہ "ہمارے طریقہ کار میں ایک گھومنے والا بائیو ریکٹر تیار کرنا شامل تھا جو سیلولوز پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی حرکت کی رہنمائی کرتا ہے، تاکہ ان کی نشوونما کے دوران ان کی حرکت کو ایک ترتیب میں لایا جا سکے۔" انہوں نے مزید وضاحت کی کہ "یہ ترتیب مائیکروبیل سیلولوز کی مکینیکل خصوصیات کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے، جس سے ایک ایسا مادہ تیار ہوتا ہے جس کی مضبوطی کچھ دھاتوں اور شیشے کے برابر ہوتی ہے اور اس کے باوجود یہ لچک دار، فولڈ ہونے کے قابل، شفاف اور ماحول دوست ہے۔"
عام طور پر بیکٹیریل سیلولوز کے ریشے بے ترتیب انداز میں بڑھتے ہیں، جس سے ان کی مضبوطی اور کارکردگی محدود ہو جاتی ہے۔ ایک خاص طور پر تیار کردہ بائیو ریکٹر کے اندر سیال کی کنٹرول شدہ حرکیات کا استعمال کرتے ہوئے، محققین نے نشوونما کے دوران سیلولوز کے نینو ریشوں کو ایک لائن میں ترتیب دیا، جس کے نتیجے میں ایسی چادریں تیار ہوئیں جن میں کھینچاؤ کی قوت 436 میگا پاسکل تک پہنچ گئی۔
ٹیم نے اس تیاری کے عمل کے دوران بوران نائٹرائڈ کی نینو شیٹس بھی شامل کیں، جس سے ایک ایسا ہائبرڈ مادہ تیار ہوا جس کی مضبوطی مزید بڑھ کر تقریباً 553 میگا پاسکل ہو گئی۔ اس تبدیل شدہ مادے نے بہتر تھرمل خصوصیات کا مظاہرہ بھی کیا، جس نے عام نمونوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تیزی سے حرارت کو خارج کیا۔
سعدی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "بائیو سنتھیسز کا یہ متحرک طریقہ کار زیادہ مضبوط اور کثیر المقاصد خصوصیات کے حامل مواد تیار کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ طریقہ مختلف اقسام کے نینو اجزاء کو براہ راست بیکٹیریل سیلولوز میں آسانی سے شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس سے مخصوص استعمال کے لیے مادے کی خصوصیات کو ڈھالا جا سکتا ہے۔"
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ "یہ تشخیصی عمل کافی حد تک بیکٹیریا کے ایک منظم گروپ کو تربیت دینے جیسا ہے۔ بیکٹیریا کو اتفاقی طور پر حرکت کرنے دینے کے بجائے، ہم انہیں ایک مخصوص سمت میں جانے کی ہدایت کرتے ہیں، جس سے ان کے پیدا کردہ سیلولوز کی قطاریں بالکل درست بنتی ہیں۔ یہ منظم حرکت اور بائیو سنتھیسز تکنیک کی لچک ہمیں ترتیب اور کثیر المقاصد خصوصیات دونوں کو ایک ہی وقت میں ڈیزائن کرنے کی سہولت دیتی ہے۔"
اس عمل کے بڑے پیمانے پر قابل استعمال ہونے اور ایک ہی مرحلے میں مکمل ہونے کی وجہ سے، محققین کا خیال ہے کہ اسے صنعتوں کے وسیع دائرے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ممکنہ استعمال میں ساختی مواد، تھرمل مینجمنٹ سسٹم، پیکیجنگ، ٹیکسٹائل، ماحول دوست الیکٹرانکس اور توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔