الجزائر کا ایسا شہر جو بے روزگاری سے مکمل پاک ہے... "بنی ميزاب" کا راز کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غردايہ کا صوبہ الجزائر کے سب سے منفرد علاقوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے، جس کی وجہ اس کی متنوع ثقافت اور سماجی یکجہتی پر مبنی روایات ہیں۔ یہاں تک کہ پونے پانچ لاکھ کے لگ بھگ آبادی کے باوجود یہاں بے روزگاری کی کوئی شرح ریکارڈ نہیں کی جاتی۔

شاید سب سے پہلی چیز جو الجزائر کے دارالحکومت سے 600 کلومیٹر جنوب میں واقع صوبہ غردایہ کے شہر بنی ميزاب میں آنے والے سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ اس کا منفرد طرزِ تعمیر ہے، کیونکہ یہ ماحول دوست عمارتوں اور سردی و گرمی سے بچاؤ کرنے والی خصوصیات کی وجہ سے ممتاز ہے۔

تاہم بیرونی ساخت غردايہ کی سب سے اہم خصوصیت نہیں ہے بلکہ اس کی سماجی عادات و اطوار ہیں، کیونکہ یہ معاشرہ خاندانوں اور افراد کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی ایک تانا بانا ہے۔

الجزائر میں بنی میزاب کے علاقے سے (العربیہ ڈاٹ نیٹ)
الجزائر میں بنی میزاب کے علاقے سے (العربیہ ڈاٹ نیٹ)

اس سلسلے میں علاقے کے معززین میں سے ایک جناب یحییٰ معيان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "بنی ميزاب کے علاقے کے لیے، جس کی آبادی پانچ لاکھ ہے، تمام رہنے والے ایک ہی خاندان کی مانند ہیں، کیونکہ ہم نے نسل در نسل باہمی یکجہتی کی اقدار کو وراثت میں پایا ہے، جس نے ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینے، اپنے چھوٹوں اور بڑوں کا احترام کرنے اور اس بات پر یقین رکھنے کے قابل بنایا ہے کہ کام ہی عبادت ہے"۔ انہوں نے مزید کہا "جہاں تک کام کا تعلق ہے، ہم تقریباً ہر شعبے میں کام کرتے ہیں، ہم اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرتے ہیں، لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ تجارت کو بھی ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ زیادہ تر نوجوان اپنے والدین کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹاتے ہیں تاکہ وہ کام اور محنت کی لگن کے ساتھ پروان چڑھیں"۔

جہاں تک ان افراد کا تعلق ہے جنہیں نوکری نہیں ملتی تو معیان نے تصدیق کی کہ انہیں ان کے حال پر نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ ہر کوئی بے روزگاری کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تعاون کرتا ہے۔ انہوں نے کہا "اگر وجہ نوکری کا نہ ہونا ہو تو ہم اسے روزگار فراہم کرتے ہیں اور اگر کوئی اور وجہ ہو تو ہم اس کا حل نکالتے ہیں، کیونکہ بے روزگاری بگاڑ کا باعث ہے"۔
علاقے میں سماجی یکجہتی کی نوعیت کے بارے میں صوبہ غردايہ کے سماجی ماہر سلیمان بودی نے کہا "میرا ماننا ہے کہ بنی ميزاب کے علاقے میں سماجی ہم آہنگی ایک ایسا نمونہ ہے جس کا دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں مطالعہ کیا جانا چاہیے"۔

الجزائر میں بنی میزاب کے علاقے سے (العربیہ ڈاٹ نیٹ)
الجزائر میں بنی میزاب کے علاقے سے (العربیہ ڈاٹ نیٹ)

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں مزید کہا "میرا خیال ہے کہ جس ہم آہنگی کا مظاہرہ ہم ميزابی معاشرے میں دیکھتے ہیں، اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی، جہاں معاشرہ افراد کے دکھ درد کو محسوس کرتا ہے اور ان میں سے کسی کو بھی کسی مصیبت کا سامنا ہو تو وہ اس کی مدد کیے بغیر نہیں رہتے، نہ صرف روزگار کے میدان میں، بلکہ زندگی کے دیگر تمام شعبوں میں بھی"۔

مزید برآں انہوں نے واضح کیا کہ "خاندانی معاملات، جیسے شادی، علیحدگی، اور وراثت یا خرید و فروخت کے تنازعات، یہ سب عدالت تک نہیں پہنچتے، بلکہ خاندان کے بزرگوں کی طرف سے باہمی رضا مندی سے حل کیے جاتے ہیں"۔

جہاں تک اس سماجی نظام کے فوائد کا تعلق ہے، انہوں نے اشارہ کیا کہ "مداخلت کا یہ نظام خاندانی شیرازہ بکھرنے سے بچاتا ہے جس سے کوئی بھی اندرونی فتنہ دب جاتا ہے اور یہ ان نوجوانوں کے بگڑنے کے امکانات کو کم کرتا ہے جو ہمیشہ معاشرے کے بزرگوں کی حفاظت اور نگرانی میں رہتے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں