لکھنے کا انداز انسانی ذہنی صلاحیتوں کا عکاس ہوتا ہے: سائنس نے تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عمر بڑھنے کے ساتھ ہی بڑھاپے سے جڑی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا معاملہ بہت سے لوگوں کو پریشان کر دیتا ہے، جبکہ سائنسدان اس کوشش میں ہیں کہ اس مسئلے کی جلد تشخیص کر کے اس کی شدت کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

اسی سلسلے میں پرتگال کی یونیورسٹی آف ایوورا کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ لکھنے کی رفتار اور اس کی حرکات کو ترتیب دینے کا طریقہ کار بڑی عمر کے لوگوں میں ذہنی صلاحیتوں کی کمزوری کی ایک ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ اور یونیورسٹی میں کھیل اور صحت کے شعبے کی ایسوسی ایٹ پروفیسر آنا ریتا ماتياس نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ لکھنا محض ایک جسمانی حرکت نہیں ہے، بلکہ یہ دماغ کا ایک آئینہ ہے۔

برزگی میں جاننے کی صلاحیت میں کمی ۔ آئسٹاک
برزگی میں جاننے کی صلاحیت میں کمی ۔ آئسٹاک

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے دریافت کیا ہے کہ جو معمر افراد ذہنی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے لکھنے کی حرکات کے وقت اور ترتیب میں مخصوص علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ جن کاموں میں زیادہ ذہنی کوشش کی ضرورت ہوتی ہے ان سے یہ واضح ہوا کہ ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا اثر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی حرکات کی مہارت اور ہم آہنگی پر بھی پڑتا ہے۔

اس تجربے کے نتائج سائنسی جریدے أزفيستا میں شائع ہوئے ہیں، جو کہ نرسنگ ہومز میں رہنے والے 62 سے 92 سال کی عمر کے 58 افراد پر کیا گیا۔ ان میں سے 38 افراد میں پہلے ہی ذہنی کمزوری کی تشخیص ہو چکی تھی۔

جسمانی حرکات کے کنٹرول کا جائزہ

تجربے کے دوران شرکا نے ایک ڈیجیٹل قلم اور ٹیبلٹ کا استعمال کرتے ہوئے دو طرح کے ٹاسک مکمل کیے۔ ان میں جسمانی حرکات کو کنٹرول کرنے کی سادہ مشقیں (جیسے لائنیں اور نقطے لگانا) اور جملے لکھنے کے ٹاسک شامل تھے، جو یا تو املا کے ذریعے لکھوائے گئے یا کسی چھپے ہوئے مواد سے نقل کروائے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ سادہ حرکات اور متن کو دیکھ کر نقل کرنے کی مشقوں نے دونوں گروپوں کے درمیان فرق کو واضح کرنے میں کوئی خاص مدد نہیں کی، جبکہ املا کے ذریعے لکھوائے گئے ٹاسک کے نتائج سب سے زیادہ اہم رہے۔ جن معمر افراد کو ذہنی مشکلات کا سامنا تھا، ان کے لکھنے کی رفتار سست ہو گئی، اس میں بار بار وقفے آنے لگے اور تسلسل برقرار نہ رہا۔

پروفیسر ماتیاس کا کہنا ہے کہ املا لکھنے کا کام زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں دماغ کو ایک ہی وقت میں کئی کام کرنے پڑتے ہیں، جن میں سننا، الفاظ کو سمجھنا، آوازوں کو تحریری شکل میں بدلنا اور جسمانی حرکات میں ہم آہنگی پیدا کرنا شامل ہے۔

محققین کے مطابق، چھوٹے جملے لکھتے وقت لکھنے کی شروعات کا وقت اور حروف کی تعداد بنیادی عوامل تھے۔ دوسری طرف، زیادہ پیچیدہ جملوں کے لیے حروف کا عمودی سائز، لکھنے کی شروعات کا وقت اور لکھنے کا کل دورانیہ سب سے اہم اشارے ثابت ہوئے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ محققین کے خیال میں ہاتھ کی لکھائی کا تجزیہ کرنے کے لیے دستیاب ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال ڈاکٹروں کے کلینک میں صحت کی نگرانی کا ایک عملی اور سستا طریقہ بن سکتا ہے، تاہم اس کی تصدیق کے لیے اب بھی بڑے پیمانے پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size