طویل عرصے تک قائم رہنے والے عطروں کا راز کیا ہے؟

خوشبو برقرار رہنے کا انحصار اجزاء کے مالیکیولر وزن اور ترکیب کے اندر ان کی کنسنٹریشن پر ہوتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

لوگ اکثر پہلی ہی سپرے سے کسی عطر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں لیکن پہلا تاثر ہمیشہ عطر کے معیار یا اس کی اصل قیمت کا تعین نہیں کرتا۔ کچھ خوشبوئیں چند گھنٹوں میں اڑ جاتی ہیں، کچھ دوسری خوشبوئیں سارا دن جلد اور کپڑوں پر موجود رہتی ہیں۔ یہ فرق صرف قیمت یا برانڈ سے منسلک نہیں ہے بلکہ اس کا بڑا دارومدار ان اجزاء پر ہوتا ہے جو عطر کی ترکیب میں شامل ہوتے ہیں اور جس طریقے سے وہ جلد اور ارد گرد کے ماحول کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ عطر سازی کے علم اور کاسمیٹک کیمسٹری میں حالیہ تحقیقات نے ان اسباب کو واضح کرنے میں مدد کی ہے جو کچھ خوشبوؤں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پائیدار بناتے ہیں۔ اس سے مناسب عطر کے انتخاب اور طویل مدت میں اس کی کارکردگی کی توقع کو گہرائی سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

استحکام کا تعین کرنے والے عناصر

جب یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی عطر طویل عرصے تک قائم رہتا ہے تو اس سے مراد اس کے خوشبودار مالیکیولز کی وقت کے ساتھ ساتھ برقرار رہنے اور آہستہ آہستہ بخارات بن کر اڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس کا انحصار استعمال شدہ اجزاء کے مالیکیولر وزن اور ترکیب کے اندر ان کی کنسنٹریشن پر ہوتا ہے۔ ہلکے مرکبات جلدی اڑ جاتے ہیں اور بھاری مرکبات طویل عرصے تک ٹکے رہتے ہیں۔

اسی وجہ سے عطر عام طور پر اس چیز کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں جسے "عطری اہرام" (پرفیوم پامڈ) کہا جاتا ہے جو تین اہم تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اوپری نغمات جو عطر لگانے کے فوراً بعد مہکتے ہیں، درمیانی نغمات جو خوشبو کا دل بناتے ہیں اور پھر بنیادی نغمات جو استحکام اور گہرائی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ بنیاد جتنی زیادہ بھاری اجزاء سے بھرپور ہوگی عطر کے کئی گھنٹوں تک برقرار رہنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔

اوپری نغمات: تیز شروعات

اوپری نغمات میں اکثر لیموں، برغموت اور مالٹے جیسی چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ہلکے جڑی بوٹیوں کے اجزاء بھی ہوتے ہیں۔ یہ مواد اپنے چھوٹے مالیکیولز کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں جو تازگی اور پاکیزگی کا فوری احساس دیتے ہیں۔ پہلا تاثر قائم کرنے میں اپنی اہمیت کے باوجود یہ اجزاء طویل عرصے تک قائم نہیں رہتے کیونکہ یہ نسبتاً مختصر مدت میں غائب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے عطر کے استعمال کے پہلے چند منٹوں کی بنیاد پر اس کے پائیدار ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر اس لیے کہ اس کی اصل شخصیت اگلی تہوں کے ظہور کے ساتھ آہستہ آہستہ سامنے آتی ہے۔

عطر کا دل سب سے زیادہ متوازن

اوپری نغمات کے غائب ہونے کے بعد درمیانی اجزاء ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان میں اکثر گلاب، چمیلی اور نارنجی کے پھول جیسے پھول شامل ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ ہلکے مصالحے یا پھلوں کے اجزا بھی ہوتے ہیں۔ یہ تہہ شروعات اور انجام کے درمیان کڑی کا کام کرتی ہے اور عطر کو اس کی بنیادی شناخت دیتی ہے۔ یہ اوپری نغمات کے مقابلے میں زیادہ استحکام کی حامل ہوتی ہے لیکن بنیادی اجزاء سے کم پائیدار ہوتی ہے جو جلد پر خوشبو کے برقرار رہنے میں سب سے بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔

اصل استحکام کا راز

اگر کوئی ایک ایسا عنصر ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ کیوں ایک عطر دوسرے سے زیادہ دیر تک قائم رہتا ہے تو وہ عطری بنیاد ہے۔ اس تہہ میں عام طور پر بھاری اور بھرپور اجزاء ہوتے ہیں جو بہت آہستہ آہستہ بخارات بنتے ہیں۔ ان مشہور اجزاء میں صندل کی لکڑی، دیودار کی لکڑی، عنبر، مشک اور پیچولی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ قدرتی گوند جیسے بنزوئن اور لبان بھی اسی لسٹ میں آتے ہیں ۔ یہ مواد نہ صرف عطر کی عمر بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں بلکہ خوشبو میں گہرائی، گرمجوشی اور پیچیدگی پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔

عطر کی کیمسٹری کے ماہرانہ مطالعے یہ بتاتے ہیں کہ ان مرکبات کی موجودگی ہلکے اجزاء کو جکڑے رکھنے اور ان کے تیزی سے اڑنے کو روکنے میں مدد کرتی ہے جس سے عطر کو زیادہ متوازن اور پائیدار کارکردگی ملتی ہے۔

عطری فکسٹیوز اور ان کا پوشیدہ کردار

ماہرین بتاتے ہیں کہ کچھ اجزاء عطر میں صرف خوشبو دینے کے مقصد سے شامل نہیں کیے جاتے بلکہ پوری ترکیب کو مستحکم کرنے میں مدد کے لیے شامل کیے جاتے ہیں۔ ان مواد کو عطری فکسٹیوز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ماضی میں قدرتی عنبر اور کچھ حیوانی ذرائع یہ کردار ادا کرتے تھے لیکن آج جدید عطر سازی کی صنعت نباتی متبادلات اور جدید مرکبات پر انحصار کرتی ہے جو زیادہ پائیدار اور اخلاقی طریقے سے یہی نتیجہ حاصل کرتے ہیں۔ یہ فکسٹیوز عطری آئلز کے بخارات بننے کے عمل کو دھیما کرنے میں مدد کرتے ہیں جس سے خوشبو آہستہ آہستہ پروان چڑھتی ہے اور طویل عرصے تک اپنی موجودگی برقرار رکھتی ہے۔

کنسنٹریشن اجزاء کی تعداد سے زیادہ اہم

کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس عطر میں زیادہ اجزاء ہوں گے وہ یقیناً زیادہ پائیدار ہوگا لیکن حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ عطری تیلوں کی کنسنٹریشن خوشبو کے برقرار رہنے کی مدت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چنانچہ خالص پرفیومز میں عام طور پر او ڈی پرفیوم یا او ڈی ٹوائلٹ کے مقابلے میں عطری تیلوں کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جو ان کے زیادہ گھنٹوں تک قائم رہنے کی صلاحیت کی وضاحت کرتا ہے۔ لیکن خود فارمولا بھی ایک بنیادی عامل رہتا ہے کیونکہ درمیانی کنسنٹریشن والا عطر بھی بعض اوقات زیادہ کنسنٹریشن والے عطر کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے اگر اس کے بنیادی اجزاء کو ذہانت سے ڈیزائن کیا گیا ہو۔

ایک شخص سے دوسرے شخص میں اختلاف

یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی عطر ایک شخص پر کئی گھنٹے قائم رہ سکتا ہے جبکہ دوسرے شخص پر جلدی غائب ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ متعدد عوامل ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں جلد کی نوعیت ہے۔ خشک جلد عطری تیلوں کو زیادہ تیزی سے جذب کر لیتی ہے جس کی وجہ سے خوشبو کم وقت میں مدہم ہو جاتی ہے۔ جبکہ زیادہ نم جلد عطر کے مالیکیولز کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے۔ جسم کا درجہ حرارت، جسمانی سرگرمی کی سطح اور آس پاس کی نمی بھی عطری اجزاء کے بخارات بننے کی رفتار میں کردار ادا کرتی ہے جو افراد کے درمیان اور یہاں تک کہ سال کے مختلف موسموں کے درمیان عطر کے استعمال کے تجربے میں فرق کی وضاحت کرتی ہے۔

دیرپا عطر کا انتخاب

جو لوگ طویل عرصے تک قائم رہنے والے عطر کی تلاش میں ہیں۔ ماہرین انہیں کسی بھی دوسری چیز سے پہلے بنیادی اجزاء پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ عطر جن میں عنبر، مشک، لکڑیاں اور پیچولی شامل ہوں وہ عام طور پر ان عطروں سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں جو بنیادی طور پر لیموں یا تازہ خوشبوؤں پر انحصار کرتے ہیں۔ خریداری کا فیصلہ کرنے سے پہلے عطر کو جلد پر آزمانا اور کئی گھنٹے انتظار کرنا بھی بہتر ہے کیونکہ وقت گزرنے کے بعد جو آخری خوشبو ظاہر ہوتی ہے وہی اس کے معیار اور استحکام کا حقیقی اشاریہ ہوتی ہے۔

استحکام، سائنس اور فن کا نتیجہ

عطر کی دنیا میں استحکام اتفاقیہ طور پر حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ کیمسٹری اور تخلیقی صلاحیتوں کے درمیان ایک باریک توازن کا نتیجہ ہے۔ مناسب اجزاء کا انتخاب اور انہیں اوپری، درمیانی اور بنیادی نغمات کے درمیان تقسیم کرنا، اور مہارت کے ساتھ فکسٹیوز کا استعمال، یہ سب وہ عوامل ہیں جو عطر کی اپنے مالک کے ساتھ سارا دن رہنے کی صلاحیت کا تعین کرتے ہیں۔ اس لیے عطر کی ترکیب کو سمجھنا اس کی خوشبو سے لطف اندوز ہونے جتنا ہی اہم ہے۔ ایک کامیاب عطر کا اصل راز صرف اس کی خوبصورتی میں نہیں بلکہ اس کے برقرار رہنے کی صلاحیت میں چھپا ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں