ٹرمپ نے امریکی پرچم سے ڈھکے ہوئے ایران کے نقشے کی تصویر شیئر کر دی

"مشرق وسطیٰ میں امریکہ؟" لکھا ہوا، امریکی صدر پہلے وینزویلا کے نقشے کی ملتی جلتی تصویر شیئر کر چکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستانی ثالثی کے ذریعے امریکی اور ایرانی مذاکرات کے جاری رہنے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے جھنڈے سے ڈھکے ایران کے نقشے کی ایک تصویر شیئر کی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے اکاؤنٹ "ٹروتھ سوشل" پر ایک نقشے کی تصویر شیئر کی جس میں ایران امریکی پرچم سے ڈھکا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور تصویر پر ایک سوال لکھا ہے "مشرق وسطیٰ میں امریکہ؟"۔

ٹرمپ اس سے پہلے بھی وینزویلا کے نقشے کی ایک ملتی جلتی تصویر شیئر کر چکے ہیں جو امریکی پرچم کے رنگوں سے رنگی ہوئی تھی اور اس پر 51 ویں ریاست کا تبصرہ درج تھا جو وینزویلا کو ایک نئی ریاست کے طور پر ضم کرنے کے خیال کی طرف اشارہ تھا۔ امریکی صدر کی یہ نئی پوسٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ اپنی دوسری ملاقات کے بعد تہران سے وطن واپس روانہ ہوئے۔

ایرانی ایجنسی "فارس" کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ مذاکرات کا عمل اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ امریکہ کے پاس آنے والے دنوں میں ایران کے بارے میں اعلان کرنے کے لیے کچھ ہو۔

بہت جلد تنازع ختم

ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے اصرار کیا کہ ان کا ملک کسی بھی ممکنہ معاہدے میں تہران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ ایران کے ساتھ موجودہ تنازع بہت جلد ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ جو چاہتا ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے حاصل کر لے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ واشنگٹن نہیں چاہتا کہ افزودہ یورینیم ایران کے اندر رہے۔ امریکہ ایرانی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حاصل کرتے ہی اسے تباہ کرنے پر کام کرے گا۔

واضح رہے اسلام آباد نے اپریل میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی لیکن مذاکرات کا پہلا دور کسی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکا تھا۔ اس وقت سے دونوں اطراف نے کئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔

کچھ نکات بدستور حل طلب ہیں جن میں سب سے نمایاں ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنا، آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ایرانی تیل پر سے امریکی پابندیوں کا مکمل خاتمہ ہے۔

دونوں جانب سے زبانی انتباہات اور امریکی دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اسی دوران امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران پر حملے کرنے کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں