آم کو دیر تک ترو تازہ رکھنے کے لیے 12 ڈگری درجہ حرارت مثالی قرار
آم تیزی سے پکتا اور سٹوریج اور نقل و حمل کے دوران خراب اور ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہوتا ہے
آم دنیا کے مشہور ترین پھلوں میں سے ایک ہے اور اپنے میٹھے ذائقے اور اعلیٰ غذائی اہمیت کی وجہ سے دنیا بھر میں اس کے چاہنے والے موجود ہیں۔ لیکن جیسے ہی اسے توڑا جاتا ہے۔ آم تیزی سے پکنے کا عمل جاری رکھتا ہے جس کی وجہ سے یہ سٹوریج اور نقل و حمل کے دوران خراب ہونے، نمی کھونے اور سڑنے کے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ چین کی ’’ ہائنان یونیورسٹی ‘‘ کے محققین نے حال ہی میں یہ وجہ معلوم کی ہے کہ آم کو 12 ڈگری درجہ حرارت پر رکھنے سے سردی کے باعث ہونے والے کسی بھی نقصان کے بغیر اس کو ترو تاازہ رکھنے کی مدت میں نمایاں اضافہ کیوں ہوتا ہے۔
ان کی تحقیق، جسے ’’ سائنس ڈیلی‘‘ نے جریدے ’’ ٹراپیکل پلانٹس‘‘ کے حوالے سے شائع کیا ہے، میں پایا گیا کہ کم درجہ حرارت پکنے کے عمل کو سست کر دیتا ہے، پھل کی ساخت کو برقرار رکھتا ہے اور آم کے قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ دفاعی نظام کو فعال کرتا ہے۔ یہ نتائج استوائی پھلوں کی نقل و حمل کے لیے کولڈ چین کو بہتر بنانے، نقصان کو کم کرنے اور ان کی شیلف لائف کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
بہت سے استوائی علاقوں میں آم عام طور پر 26 ڈگری سے 30 ڈگری سیلسیئس کے درمیان درجہ حرارت میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ گرم حالات آسان ہوتے ہیں لیکن یہ سانس لینے اور پکنے کے عمل کو تیز کر دیتے ہیں جس سے پھل نرم ہو جاتے ہیں اور تیزی سے خراب ہوتے ہیں۔
کم درجہ حرارت
سائنسدان طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ کم درجہ حرارت پر ذخیرہ کرنا اس عمل کو سست کر سکتا ہے لیکن آم جیسے استوائی پھل درجہ حرارت بہت زیادہ گرنے پر سردی کے نقصانات کے لیے حساس ہوتے ہیں۔ پچھلے مشاہدات سے پتہ چلا تھا کہ 12 ڈگری درجہ حرارت "تائنونگ نمبر 1" آم کو محفوظ رکھنے کے لیے موزوں ہے لیکن محققین اس کی تاثیر کے پیچھے حیاتیاتی وجوہات کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پائے تھے۔
اس کی تصدیق کے لیے تحقیقاتی ٹیم نے 24 دنوں کے دوران 12 ڈگری سیلسیئس پر ذخیرہ کیے گئے آموں کا موازنہ 30 ڈگری سیلسیئس پر ذخیرہ کیے گئے آموں سے کیا۔ سائنسدانوں نے آم کی کوالٹی پر سٹوریج کے درجہ حرارت کے اثرات کو جانچنے کے لیے ٹیسٹوں کی ایک وسیع رینج کا استعمال کیا۔ انہوں نے پھل کے رنگ، مضبوطی، وزن کی کمی، شوگر کی مقدار، تیزابیت، سانس لینے کی شرح اور ری ایکٹو آکسیجن سپیچیز کی سطحوں کی نگرانی کی جو خلیات کے نقصان سے جڑے غیر مستحکم مالیکیولز ہیں۔
اس تحقیق میں اینٹی آکسیڈینٹ مرکبات جیسے وٹامن سی، فینولک مرکبات اور فلیوونائڈز کا بھی معائنہ کیا گیا۔ محققین نے حفاظتی انزائمز، جن میں APX، SOD، PAL، اور POD شامل ہیں، کی سرگرمی کی پیمائش کی اور اینٹی آکسیڈینٹ دفاعی نظام سے وابستہ جینز کے اظہار کا تجزیہ کیا۔ مائیکروسکوپک امیجنگ نے محققین کی ٹیم کو وقت کے ساتھ ساتھ آم کے گودے کے خلیات کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے کی اجازت دی۔
آم کی کوالٹی برقرار رکھنا
پہلے بارہ دنوں کے دوران 12 ڈگری سیلسیئس اور 30 ڈگری سیلسیئس پر ذخیرہ کیے گئے آم کافی حد تک مشابہ نظر آئے۔ لیکن سولہویں دن کے بعد نمایاں اختلافات ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔ 30 ڈگری سیلسیئس پر ذخیرہ کیے گئے پھلوں کا رنگ تیزی سے پیلا ہونا شروع ہو گیا جبکہ 12 ڈگری سیلسیئس پر رکھے گئے آموں نے کلوروفیل کے ٹوٹنے کے عمل میں نمایاں کمی کی وجہ سے اپنا رنگ طویل عرصے تک برقرار رکھا۔ زیادہ گرم پھلوں میں شوگر کی سطح تیزی سے بڑھی اور پھر گر گئی۔ 12 ڈگری سیلسیئس پر ذخیرہ کیے گئے آموں میں سست اور زیادہ مستحکم اضافہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 30 ڈگری پر تیزابیت بہت تیزی سے ختم ہو گئی۔ اس کے برعکس 12 ڈگری سیلسیئس پر محفوظ آموں نے نمایاں طور پر زیادہ تیزابیت برقرار رکھی جس نے ذائقے کا توازن برقرار رکھنے میں مدد کی۔ پھلوں کی طبعی حالت نے اور بھی بڑے اختلافات دکھائے۔ 30 ڈگری درجہ حرارت پر ذخیرہ کیے گئے آموں نے اپنے وزن کا 17 فیصد سے زیادہ حصہ کھو دیا۔ 12 ڈگری درجہ حرارت پر ذخیرہ کیے گئے پھلوں نے 4 فیصد سے بھی کم وزن کھویا۔ سرد سٹوریج کے حالات میں پھلوں کی مضبوطی بھی بہت آہستہ کم ہوئی۔
محققین نے خلیاتی سطح پر ساخت کے بڑے اختلافات نوٹ کیے۔ 12 ڈگری درجہ حرارت پر محفوظ کیے گئے آموں نے 24 دن بعد بھی خلیات کی دیواریں اور نشاستے کے ذرات برقرار رکھے۔ اس کے برعکس 30 ڈگری درجہ حرارت پر ذخیرہ کیے گئے پھلوں نے خلیات کی دیواروں کا وقت سے پہلے پتلا ہونا، نشاستے کا ختم ہونا اور آخر کار خلیاتی ٹوٹ پھوٹ کا مظاہرہ کیا۔
اینٹی آکسیڈینٹس
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ 12 ڈگری سیلسیئس درجہ حرارت پر سٹوریج مالونڈیالڈیہائڈ اور ری ایکٹو آکسیجن سپیچیز کے جمع ہونے کو کم کرتا ہے جو دونوں آکسیڈیٹیو تناؤ اور خلیات کے نقصان سے وابستہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کم درجہ حرارت نے وٹامن سی، فینولک مرکبات اور فلیوونائڈز کی اعلیٰ سطحوں کو برقرار رکھنے میں مدد کی۔ 12 ڈگری درجہ حرارت پر ذخیرہ کیے گئے آموں میں حفاظتی اینٹی آکسیڈینٹ انزائمز طویل عرصے تک زیادہ فعال رہے۔
جینز کے تجزیے سے اینٹی آکسیڈینٹس سے وابستہ جینز، جن میں MiAPX1، MiAPX2، MiSOD1 اور MiSOD2 شامل ہیں ، کی سرگرمی میں اضافے کا انکشاف ہوا۔ محققین کے مطابق یہ جینز پھل کے قدرتی دفاعی نظام کو بڑھانے اور آکسیڈیشن و ریڈکشن کے توازن کو برقرار رکھنے میں حصہ ڈالتے ہیں جس سے سٹوریج کے دوران خلیات کا نقصان کم ہو جاتا ہے۔
آم کی شپنگ اور سٹوریج
تحقیق کے نتائج آم کی صنعت اور کولڈ چین لاجسٹکس کے نظام کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ سٹوریج کے درجہ حرارت کو 12 ڈگری کے قریب رکھنے سے آموں کی جلد کٹائی، انہیں طویل فاصلے تک منتقل کرنے اور ان کی حتمی مارکیٹوں کے قریب پہنچ کر پکنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ اسی طرح خرابی اور کوالٹی کے نقصان کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔