انوکھی ایجاد... نمک اور جلیٹن سے بجلی پیدا کرنے والا ماحول دوست جنریٹر

گیلا الیکٹرک جنریٹر خوردنی نمک، جلیٹن اور ایکٹیویٹڈ کاربن کی مدد سے بجلی پیدا کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانوی سائنس دانوں نے بجلی کی پیداوار اور پائیدار ذخیرے کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے پانی میں موجود نمک سے بجلی پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

کوئن میری یونیورسٹی آف لندن، واروک یونیورسٹی، امپیریل کالج لندن، یونیورسٹی آف مرکاٹورم اور انسٹی ٹیوٹ ایئر کے محققین کی مشترکہ ٹیم نے ایک ایسا منفرد "ویٹ الیکٹرک جنریٹر" تیار کیا ہے جو خوردنی نمک، جلیٹن اور ایکٹیویٹڈ کاربن کی مدد سے بجلی بناتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان آلات کے لیے انتہائی مفید ہے جنہیں گیلے ماحول میں استعمال کیا جاتا ہے اور جہاں بیٹری تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے، جیسے کہ پہننے کے قابل طبی آلات یا زرعی سنسرز۔ یہ جنریٹر ماحول سے نمی کو جذب کر کے بجلی میں تبدیل کرتا ہے۔ تجربے کے دوران اس کی ایک اکائی نے 30 دن سے زائد عرصے تک تقریباً 1 وولٹ مسلسل کرنٹ فراہم کیا۔ جب ٹیم نے متعدد یونٹس کو سیریز میں جوڑا تو اس کی کارکردگی 90 وولٹ اور 5.08 ملی ایمپئیر تک پہنچ گئی، جو 40 ایل ای ڈی بلب جلانے کے لیے کافی ہے۔

اس ایجاد کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سستی، غیر زہریلی اور قدرتی طور پر دستیاب مواد سے بنتی ہے، جو روایتی بیٹریوں سے پیدا ہونے والے الیکٹرونک فضلے کا ایک ماحول دوست متبادل ہے۔ جب جلیٹن اور نمک کا محلول سوکھتا ہے تو یہ خود بخود تین تہوں والی ساخت میں ڈھل جاتا ہے، جو نمی کے رابطے میں آتے ہی مواد کے اندر آئنز کی حرکت کے ذریعے بجلی پیدا کرتا ہے۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر دیمیتریوس پاپاجورجیو کے مطابق اس کا مقصد الیکٹرونک مواد کی ڈیزائننگ کے عمل کو تبدیل کرنا تھا۔ جبکہ ڈاکٹر منگ ڈونگ کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ سادہ اور پائیدار اجزاء سے بھی اعلیٰ کارکردگی حاصل کی جا سکتی ہے۔

بجلی پیدا کرنے کے علاوہ یہ مواد جلد کے ساتھ مطابقت رکھنے والے سنسر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ یہ نمی میں معمولی تبدیلیوں کو محسوس کر کے انسانی جسمانی اشاروں کی نگرانی کر سکتا ہے۔ محققین نے ثابت کیا ہے کہ یہ آلہ سانس لینے کے نمونوں، بولنے کے دوران خارج ہونے والی نمی اور بغیر چھوئے قربت محسوس کرنے (پراکسیمیٹی سینسنگ) جیسے کام بخوبی انجام دے سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی پہننے کے قابل صحت کی نگرانی کرنے والے آلات اور انسانی-مشین انٹرفیس میں بیٹری کے بغیر استعمال کے نئے دروازے کھولتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں