اسمارٹ فونز کا استعمال مردانہ بانجھ پن کے خطرات سے جڑا ہے: تحقیقات میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

دنیا بھر کی حکومتیں شرحِ پیدائش میں شدید کمی کے رجحان کو روکنے کے لیے مختلف طریقے تلاش کر رہی ہیں، لیکن دو نئی امریکی تحقیقات نے اشارہ دیا ہے کہ اس بحران کی ایک اہم وجہ شاید نظر انداز ہو گئی ہے، جو اسمارٹ فون ہے۔

ان تحقیقات کے مطابق اسمارٹ فون استعمال کرنے والے افراد میں سماجی میل جول کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں حقیقی زندگی میں قریبی تعلقات بھی کم ہو جاتے ہیں، یہی صورتِ حال شرحِ تولید میں کمی کا باعث بنتی ہے۔امریکہ میں 2007 کے بعد سے شرحِ پیدائش میں تقریباً 22 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

ماہرین نے یہ مفروضہ پیش کیا ہے کہ اس گراوٹ کا تعلق اسی سال ایپل کے پہلے آئی فون کے متعارف ہونے سے بھی ہو سکتا ہے، جس نے موبائل ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک بڑا انقلاب برپا کیا۔

آئی فون اور تحقیق

اس مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے میڈلبری یونیورسٹی کے دو محققین کیٹلن مائرز اور ایزیکیل ہوبر نے یہ نکتہ بنیاد بنایا کہ آئی فون 2007 سے 2011 کے دوران امریکہ میں صرف ایک ہی موبائل نیٹ ورک AT&Tکے ذریعے دستیاب تھا۔

انہوں نے ان علاقوں میں شرحِ پیدائش کا موازنہ کیا، جہاں یہ نیٹ ورک موجود تھا اور ان علاقوں سے کیا جہاں اس کی کوریج نہیں تھی، یعنی وہاں آئی فون استعمال کرنے کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔

ان کی اس تحقیق کے مطابق جسے پیر کے روز نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ نے شائع کیا، وہ امریکی علاقے جہاں آئی فون دستیاب تھا ،وہاں فی عورت بچوں کی تعداد میں زیادہ تیزی سے کمی دیکھی گئی، ان علاقوں کے مقابلے میں جہاں یہ سہولت موجود نہیں تھی۔یہ کمی خاص طور پر کم عمر گروہوں (15 سے 24 سال) میں زیادہ واضح رہی۔

محققین کے مطابق شرحِ پیدائش میں کمی بنیادی طور پر نوجوانوں میں مرکوز ہے اور اس کی بڑی وجہ غیر ارادی حملوں میں کمی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ رجحان صرف بچوں کی پرورش کے اخراجات کی وجہ سے نہیں بلکہ سماجی میل جول اور جنسی سرگرمی میں کمی کی وجہ سے ہے۔

مزید برآں ان کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون شرحِ پیدائش میں کمی کی واحد وجہ نہیں، لیکن یہ ایک اہم عنصر ضرور ہے جسے فرانس اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی وہ پالیسیاں بھی مکمل طور پر تبدیل نہیں کر پاتیں جو بچوں کی پیدائش کے لیے مالی مراعات فراہم کرتی ہیں۔

مزید یہ کہ سنسناٹی یونیورسٹی کے دو دیگر ماہرِ اقتصادیات نیتھن ہڈسن اور ہیرنان موسکوسو بوئڈو نے اس مفروضے کو مزید وسعت دیتے ہوئے اسے 128 ممالک تک پھیلا دیا۔

انہوں نے عالمی بینک کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جس میں اسمارٹ فونز کے پھیلاؤ اور نوعمر افراد میں شرحِ پیدائش کے رجحانات شامل تھے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جیسے جیسے اسمارٹ فونز کا استعمال بڑھا، ویسے ویسے شرحِ پیدائش میں کمی کی رفتار بھی تیز ہوتی گئی۔

یہ رجحان ایسے ممالک میں بھی دیکھا گیا، جہاں صحت، سماجی ڈھانچہ، معاشی حالات اور ثقافتی پس منظر ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔مئی میں شائع ہونے والی ان کی تحقیق میں مؤلفین نے اس صورتحال کو عالمی مشترکہ ٹیکنالوجیکل شاک قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size