بچے پیدا کرنا خوشی میں اضافہ نہیں کرتا: سائنس کا حیران کن انکشاف
خوشی کا تعلق افراد میں زندگی کے مفہوم اور مقصد کے احساس میں معمولی اضافے سے ہے
ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچے پیدا کرنا لازمی طور پر خوشی یا زندگی سے اطمینان کی سطحوں میں مستقل اضافے کا باعث نہیں بنتا لیکن اس کا تعلق افراد میں زندگی کے مفہوم اور مقصد کے احساس میں معمولی اضافے سے ہے خاص طور پر خواتین میں۔ ارتقائی ماہرینِ حیاتیات اس مفروضے سے چلے تھے کہ انسانی جذبات ان رویوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پروان چڑھے ہیں جو بقا اور جینز کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ چونکہ افزائشِ نسل جینیاتی مواد کو منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے، اس لیے ارتقائی نظریہ یہ فرض کرتا ہے کہ والدین بننے کا تعلق خوشی میں اضافے سے ہونا چاہیے۔ یہ 'ایوولوشنری سائیکالوجی' جریدے کے حوالے سے 'سائی پوسٹ' ویب سائٹ نے شائع کیا ہے۔
اس تناظر میں یونیورسٹی آف نیکوسیا میں ارتقائی نفسیات کے پروفیسر مینیلاؤس اپوسٹولو نے کہا ہے کہ بچے پیدا کرنا انسانی زندگی کے اہم ترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔ بہت سے لوگ حیران ہوتے ہیں کہ کیا یہ فیصلہ انہیں زیادہ خوش کرتا ہے ۔ ہم نے اس سوال کا جواب دینے میں مدد کے لیے یہ تحقیق کی ہے۔
غیر متوقع نتائج
اس تحقیق کے نتائج نے دکھایا کہ والدین بننا افراد میں خوشی کی بنیادی سطح میں کوئی مستقل تبدیلی نہیں لاتا اور نہ ہی یہ مثبت یا منفی جذبات یا زندگی سے مجموعی اطمینان کی سطح پر مستقل طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جبکہ اپوسٹولو نے وضاحت کی کہ نتائج اشارہ کرتے ہیں کہ بچے پیدا کرنا طویل مدت میں لوگوں کو زیادہ خوش یا کم خوش نہیں بناتا۔ اسے انہوں نے ایک حیران کن امر قرار دیا کیونکہ زیادہ تر والدین اپنے بچوں کو اپنی زندگی کی سب سے اہم چیز سمجھتے ہیں۔
تندرستی کی دو اقسام
ماہرینِ نفسیات نے نفسیاتی تندرستی کی دو اقسام کے درمیان فرق کیا ہے۔ پہلی ہیڈونک تندرستی ہے۔ یہ روزمرہ کی خوشی، مثبت جذبات اور اداسی یا جرم کے احساس جیسے منفی جذبات کی عدم موجودگی کا اظہار کرتی ہے۔ دوسری قسم یوڈائمونک تندرستی ہے ۔ یہ زندگی میں مفہوم، مقصد اور غایت کے گہرے احساس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ لیکن دونوں اقسام کے درمیان تعلق کی موجودگی کے باوجود یہ زندگی کے واقعات سے ہمیشہ ایک ہی طریقے سے متاثر نہیں ہوتیں۔
پچھلی تحقیقات میں متضاد نتائج
پچھلی تحقیقات نفسیاتی تندرستی پر بچوں کے اثرات کے بارے میں مختلف نتائج تک پہنچی تھیں۔ کچھ ریسرچز نے کہا ہے کہ والدین زیادہ مثبت جذبات اور مقصد کے مضبوط احساس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دیگر تحقیقات نے پایا کہ بچے پیدا کرنا خوشی یا زندگی سے اطمینان میں معمولی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
زندگی کا مفہوم خوشی سے بڑھ کر ہے
محققین نے پایا کہ والدین اور غیر والدین روزمرہ کی خوشی، اداسی یا زندگی سے مجموعی اطمینان کی سطحوں میں نمایاں طور پر مختلف نہیں ہیں۔ نیز والدین بننے کے ظاہری جذباتی فوائد ازدواجی حیثیت کو مدِ نظر رکھنے کے بعد کافی حد تک کم ہو گئے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک مستحکم جذباتی رشتہ اور لائف پارٹنر کا ہونا محض بچے پیدا کرنے کے مقابلے میں روزمرہ کی خوشی کا زیادہ مضبوط اشاریہ ہے۔
اس کے برعکس والدین نے غیر والدین کے مقابلے میں زندگی کے مفہوم کے احساس میں تھوڑی زیادہ سطحیں ریکارڈ کیں اور یہ اثر مردوں کے مقابلے خواتین میں زیادہ واضح تھا۔ محققین نے کہا کہ مالی بوجھ، وقت کی کمی، اور بچوں کی پرورش سے جڑے دباؤ ان جذباتی فوائد کو محدود کر سکتے ہیں جو بچے پیدا کرنے سے حاصل ہو سکتے ہیں۔
محققین نے اپنے نتائج کو غیر جانبداری کا تضاد قرار دیا کیونکہ جہاں ارتقائی نظریہ یہ توقع کرتا ہے کہ افراد اپنی جینز اگلی نسل کو منتقل کرنے کے نتیجے میں بہت زیادہ خوشی محسوس کریں گے، وہاں اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ والدین میں خوشی کی بنیادی سطح کافی حد تک مستحکم اور غیر جانبدار رہتی ہے۔ اس تضاد کو حل کرنے کے لیے محققین نے اس بات کو ترجیح دی کہ والدین بننے سے جڑے جذبات عارضی جذباتی محرکات کے طور پر کام کرتے ہیں نہ کہ مستقل حالات کے طور پر۔ مثال کے طور پر والدین اپنے بچوں میں سے کسی کی گریجویشن یا کسی اہم کامیابی پر بہت بڑی خوشی محسوس کر سکتے ہیں لیکن یہ جذبات عارضی ہوتے ہیں اور پرورش میں کی جانے والی کوشش پر ایک نفسیاتی انعام کی شکل ہوتے ہیں۔
محققین نے کہا کہ ان جذبات کا مستقل طور پر برقرار رہنا بچوں کی مدد جاری رکھنے اور انہیں مزید کامیابی حاصل کرنے میں مدد دینے کے محرک کو کم کر سکتا ہے۔ اس لیے ارتقائی نقطہ نظر سے جذباتی میکانزم افراد کو ایسے اقدامات کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں جو ان کے بچوں کی ترقی کی حمایت کریں۔