سعودی ڈاکٹر کی کہانی جنہوں نے مریضوں کے علاج کے لیے اپنے والد کی تعزیت کی محفل چھوڑ دی
آپریشنز کا شیڈول پورا کرنا کوئی ذاتی انتخاب نہیں تھا بلکہ یہ طبی ذمہ داری کا تقاضا تھا: ڈاکٹر صقر الرویلی، العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو
ایک سعودی ڈاکٹر نے اپنے والد کی تعزیت کے دوسرے ہی دن اپنے گہرے دکھ اور صدمے کے باوجود اپنے کام کی ذمہ داریوں پر واپس لوٹنے کو ترجیح دے کر ایثار کی مثال قائم کردی۔ اس گہرے صدمے اور انتظار کی فہرستوں میں درد سے نڈھال مریضوں کی تکلیف کو ختم کرنے کی انسانی پکار کے درمیان شدید کشمکش کے سائے میں یہ ایک ایسی انسانی کہانی ہے جس نے سعودی عرب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زبردست ردعمل پیدا کیا ہے۔
سعودی عرب کے شمال میں واقع علاقے الجوف میں ہڈیوں کے ڈاکٹر، ڈاکٹر صقر الرویلی نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے بات کی۔ انہوں نے اپنے اس فیصلے کی وجوہات کو ان مریضوں کے حوالے سے طبی ذمہ داری کا جواب قرار دیا۔
بعد تشييع والده في الرياض..
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) June 27, 2026
الطبيب صقر الرويلي يعود إلى الجوف صباح اليوم التالي و يباشر عمله في غرفة العمليات لإجراء العمليات المجدولة
شاهد التفاصيل..
عبر:@aziz_e2030 pic.twitter.com/CPg4uoye5h
انہوں نے بتایا ایسے مریض تھے جو طویل عرصے سے اپنے وقت کا انتظار کر رہے تھے اور یہ کوئی ذاتی انتخاب نہیں تھا کیونکہ کچھ کیسز انتظار کی فہرستوں میں شامل تھے اور فوری طبی مداخلت کے متقاضی تھے۔ دیگر مریض طبی معائنے کے لیے الجوف سے دور دراز علاقوں سے آئے تھے۔
ڈاکٹر صقر الرویلی اپنی کہانی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپریشنز کا شیڈول مکمل کرنا کوئی ذاتی انتخاب نہیں تھا بلکہ یہ ان مریضوں کے حوالے سے طبی ذمہ داری کا جواب تھا جو کچھ عرصے سے اپنے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ ان میں ایسے کیسز بھی تھے جو پیچیدہ علاج اور لاجسٹک انتظامات کے بعد علاقے سے باہر سے آئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے والد کے انتقال کا وقت ان کے طبی شیڈول میں آپریشنز کی رفتار بڑھنے کے وقت کے ساتھ ہی پیش آیا کیونکہ مریض اپنے طے شدہ اوقات کے مطابق کندھے کے ایڈوانسڈ آپریشنز اور جوڑوں کی تبدیلی جیسے آپریشنز کروانے کے لیے پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان آپریشنز کو ملتوی کرنا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا کیونکہ اس سے مریضوں کی تکلیف بڑھ جاتی اور اس سے منسلک طبی و تنظیمی طریقہ کار دوبارہ کرنا پڑتا۔
اس سعودی ڈاکٹر کے مؤقف نے سوشل میڈیا کے فالورز کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ بہت سے لوگوں نے اسے مریضوں کے مفادات کو ترجیح دینے کا ایک بے غرض مظاہرہ قرار دیا۔ ڈاکٹر صقر الرویلی نے کہا کہ ان کے شیڈول کی فہرست میں شامل طبی کیسز ملتوی کرنے کی گنجائش نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حالات اجازت دیتے تو وہ ملتوی کرنے میں ایک لمحہ بھی نہ ہچکچاتے لیکن طبی مفاد کے پیشِ نظر ہونے نے انہیں ان آپریشنز کو ایک انسانی امانت سمجھتے ہوئے مکمل کرنے پر ابھار دیا۔