سادہ عادات جو آپ کے دماغ کو خوشی کی طرف دوبارہ متوجہ کر سکتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

موڈ بہتر بنانے اور ذہنی دباؤ کم کرنے کا راستہ شاید اتنا پیچیدہ نہیں جتنا اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دوسروں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے محبت بھرے اور مددگار رویے اختیار کرنا دماغ کی کیمیائی ساخت پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے، جس سے ذہنی اور جسمانی صحت دونوں بہتر ہو سکتی ہیں۔

ویب سائٹ ''Inc''کی ایک رپورٹ کے مطابق دوسروں کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آنا دماغ میں بعض اہم کیمیائی مادوں کے اخراج کو متحرک کرتا ہے۔ ان میں ڈوپامین شامل ہے جو خوشی کے احساس سے وابستہ ہے، جبکہ سیروٹونن موڈ کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

اس کے علاوہ ایسے مثبت رویے کورٹی سول کی سطح کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جو دباؤ پیدا کرنے والا ہارمون سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مثبت اثر دل کی صحت پر بھی پڑ سکتا ہے۔

امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے شائع ہونے والی تقریباً 201 مطالعات پر مشتمل ایک جامع جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ چھوٹے، خود رو اور سادہ نیکی کے کام ذہنی صحت اور مجموعی خوش حالی کے احساس پر سب سے زیادہ مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

فوائد کام کی جگہ تک بھی پھیلتی ہیں

خوش اخلاقی اور نرمی کے اثرات صرف موڈ بہتر بنانے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اعصابی سائنس کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ رویہ ہمدردی کو فروغ دیتا ہے، جو کامیاب قیادت اور جذباتی ذہانت سے وابستہ اہم خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو نیکی یا مہربانی کا کام کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے دماغ میں بھی خوشی سے متعلق وہی ہارمونز خارج ہوتے ہیں۔

اس طرح خوش اخلاقی اور مددگار رویہ کام کی جگہوں اور معاشرے میں پھیلتا ہے اور تعاون، اعتماد اور فلاح و بہبود کا مثبت دائرہ تشکیل دیتا ہے۔

مدد کی خوشی

کلینیکل نفسیات کی ماہر ڈاکٹر نارینے ہارٹونیان اس کیفیت کو ''مدد کی خوشی'' قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسی حالت ہے جسے سائنسی طور پر ناپا جا سکتا ہے اور یہ مثبت جذبات میں اضافے، ذہنی دباؤ میں کمی اور یہاں تک کہ درد کے احساس میں کمی سے بھی وابستہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فنکشنل ایم آر آئی اسکینز سے معلوم ہوا ہے کہ جب کوئی شخص دوسروں کی مدد کے لیے نیکی یا مہربانی کا عمل کرتا ہے تو دماغ کے وہی حصے متحرک ہوتے ہیں، جو مالی انعام حاصل کرنے کے وقت فعال ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوسروں کی مدد کرنے کے بعد انسان کو اطمینان اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔

محققین کے مطابق یہ ردعمل انسان کی سماجی فطرت سے جڑا ہوا ہے۔ قدیم انسانی معاشروں میں باہمی تعاون نے بقا کے امکانات کو بڑھایا، اسی لیے دماغ نے ایسے رویوں کو انعام دینے کا نظام پیدا کیا جو دوسروں کی مدد اور اجتماعی تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔

چھوٹے کام، بڑا اثر

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فوائد سے فائدہ اٹھانے کے لیے بڑی یا غیر معمولی کوششوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ روزمرہ زندگی میں کیے جانے والے چھوٹے اور سادہ اچھے کام بھی مثبت نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر کسی ساتھی کی مدد کرنا، مشکل وقت سے گزرنے والے دوست کو فون کرنا، کسی دوسرے شخص کے لیے کافی خریدنا، کسی فلاحی ادارے کو معمولی رقم عطیہ کرنا یا کسی عوامی مقام سے کچرا اٹھانا بھی نیکی کے ایسے عمل ہیں جو ذہنی سکون اور خوشی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

بعض ماہرین روزانہ پانچ چھوٹے نیکی کے کام کرنے کی سفارش کرتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر آغاز کم تعداد سے کیا جائے تب بھی یہ عادت آہستہ آہستہ مضبوط ہو سکتی ہے۔

اس کے نتیجے میں نہ صرف فرد کی ذہنی اور جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ اس کی خوشی اور مثبت رویہ اس کے اردگرد موجود لوگوں پر بھی اچھا اثر ڈالتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size