بالوں کی نشوونما کو فروغ دینے کے لیے گھریلو عادات، حقیقت یا وہم؟
سر کی جلد کے مساج سے لے کر قدرتی تیلوں اور غذائی سپلیمنٹس تک درجنوں ایسی تجاویز عام ہیں جو طویل اور گھنے بالوں کا وعدہ کرتی ہیں۔ لیکن ان میں سے کون سی ایسی ہیں جنہیں سائنسی شواہد کی حمایت حاصل ہے اور کون سی محض ایک عام عقیدہ سے بڑھ کر کچھ نہیں؟ بالوں کو لمبا کرنے کے طریقوں کے بارے میں چند سیکنڈ کی تلاش ہی کافی ہے کہ سینکڑوں ایسے نسخے سامنے آ جاتے ہیں جو فوری نتائج کا وعدہ کرتے ہیں۔ ان طریقوں میں سر کی جلد کا مساج اور قدرتی تیلوں کے استعمال سے لے کر مخصوص غذائی سپلیمنٹس کا استعمال شامل ہے۔ ان تجاویز کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود ماہرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہر وہ چیز جس کی تشہیر کی جاتی ہے ضروری نہیں کہ وہ بالوں کی نشوونما پر اثر انداز بھی ہوتی ہو۔
بالوں کی نشوونما کی رفتار
کسی بھی گھریلو نسخے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ بالوں کی نشوونما کی رفتار کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے آسانی سے بدلا جا سکے بلکہ یہ ایک حیاتیاتی عمل ہے جس کا تعین جینز، عمر، ہارمونل تبدیلیاں اور عمومی صحت کی حالت کرتی ہے۔ ہر بال تین اہم مراحل سے گزرتا ہے ایک فعال نشوونما کا مرحلہ، دوسرا ایک مختصر عبوری مرحلہ اور پھر تیسرا آرام کا مرحلہ جو بال گرنے اور ایک نئے چکر کے آغاز پر ختم ہوتا ہے۔
زیادہ تر لوگوں میں بال ماہانہ ایک سے ڈیڑھ سینٹی میٹر کی شرح سے بڑھتے ہیں لیکن یہ شرح ایک شخص سے دوسرے شخص میں مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے کوئی بھی گھریلو نسخہ چند ہفتوں میں بالوں کی نشوونما کی رفتار کو دوگنا نہیں کر سکتا لیکن یہ فولیکلز (جڑوں) کی صحت کو بہتر بنانے اور ان عوامل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو بالوں کی کمزوری یا ان کے گرنے کا سبب بنتے ہیں۔
مصنوعات سے پہلے خوراک
جب بالوں کی نشوونما سست ہو جاتی ہے تو بہت سے لوگ شیمپو بدلنے یا نیا سیرم خریدنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، جبکہ مسئلہ اس چیز سے جڑا ہو سکتا ہے جس کی جسم کو اندرونی طور پر ضرورت ہوتی ہے۔ بال بنیادی طور پر کیراٹن پروٹین سے بنتے ہیں اور اسی لیے انہیں آئرن، زنک، وٹامن ڈی اور وٹامن بی گروپ کے کچھ اہم غذائی عناصر کے ساتھ ساتھ پروٹین کی کافی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ ان عناصر کی کمی بالوں کے گرنے میں اضافے اور ان کی کوالٹی کی کمزوری سے جڑی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح سخت ڈائیٹنگ اور تیزی سے وزن کا کم ہونا بڑی تعداد میں فولیکلز کو آرام کے مرحلے میں دھکیل سکتا ہے جس کے نتیجے میں عارضی طور پر بال گرنے لگتے ہیں۔ اسی وجہ سے ماہرینِ جلد کا ماننا ہے کہ غذائی نظام کو بہتر بنانا کسی بھی اندھا دھند سپلیمنٹس کے استعمال سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں جب ٹیسٹوں کے ذریعے کسی کمی کی تصدیق نہ ہوئی ہو۔
سر کی جلد کا مساج
سر کی جلد کا مساج سب سے زیادہ عام گھریلو عادات میں سے ایک ہے اور اس نے حالیہ برسوں کے دوران محققین کی توجہ حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ باقاعدگی سے مساج سے پیدا ہونے والی مکینیکل تحریک سر کی جلد میں خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے جو فولیکلز کے گرد ایک بہتر ماحول فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ حالیہ تحقیق نے بالوں کی نشوونما کے چکر سے جڑے کچھ راستوں کو متحرک کرنے میں مساج کے ممکنہ اثر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے تاہم محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان نتائج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ موروثی بال گرنے کا علاج ہے یا منظور شدہ طبی علاج کا متبادل ہے۔
تیل کے فوائد
اگر کوئی ایسا قدرتی جزو ہے جو دیکھ بھال کے روایتی نسخوں سے نکل کر سائنسی مطالعے تک پہنچا ہے تو وہ روزمیری کا تیل ہے۔ کیونکہ کچھ تحقیقات نے بعض لوگوں میں بالوں کی نشوونما میں مدد دینے اور ان کے گھنے پن کو بہتر بنانے کی اس کی صلاحیت کے بارے میں حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی جادوئی حل ہے، خاص طور پر چونکہ اس کے نتائج باقاعدہ استعمال کے مہینوں بعد ہی ظاہر ہوتے ہیں اور اس کا اثر بھی ایک شخص سے دوسرے شخص میں مختلف ہوتا ہے۔
جہاں تک دوسرے تیلوں جیسے ناریل، آرگن یا ارنڈی کا تیل، کا تعلق ہے تو یہ بالوں کو نم رکھنے، نمی کے نقصان کو کم کرنے اور بالوں کو ٹوٹنے سے بچانے میں مدد کر سکتے ہیں لیکن ان کے پاس ایسا کوئی مضبوط سائنسی ثبوت نہیں ہے جو بالوں کو پیدا کرنے کے لیے نئے فولیکلز کو متحرک کرنے کی ان کی صلاحیت کو ثابت کرے۔
سر کی جلد کی صفائی
کچھ لوگ بالوں کی نشوونما کو متحرک کرنے والے اجزاء کی تلاش میں مصروف ہو سکتے ہیں جبکہ وہ اس ماحول کی اہمیت سے غافل ہو جاتے ہیں جس میں فولیکلز بڑھتے ہیں۔ صحت مند اور صاف ستھری سر کی جلد مضبوط بالوں کے لیے ایک اہم بنیاد تشکیل دیتی ہے۔ اس کا مطلب بالوں کو ضرورت سے زیادہ دھونا نہیں ہے بلکہ ایک ایسے معمول کا انتخاب کرنا ہے جو جلد کی نوعیت کے مطابق ہو۔ چکنائی، سٹائلنگ مصنوعات کی باقیات یا مردہ جلد کے خلیات کا جمع ہونا کچھ لوگوں میں سر کی جلد کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح سخت صفائی خشکی اور جلن کا باعث بن سکتی ہے۔
عام وہمی باتیں
سب سے زیادہ عام وہمی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ بالوں کو کاٹنے سے وہ تیزی سے بڑھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کٹائی بالوں کی نشوونما کی رفتار پر اثر انداز نہیں ہوتی کیونکہ نشوونما سر کی جلد کے اندر موجود فولیکل سے ہوتی ہے نہ کہ سروں سے۔ اس کے باوجود دو منہ والے بالوں سے چھٹکارا پانا بالوں کی لمبائی کو برقرار رکھنے اور انہیں زیادہ صحت مند اور گھنا ظاہر کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جہاں تک غذائی سپلیمنٹس اور ان میں سب سے نمایاں بائیوٹین اور کولیجن کا تعلق ہے تو یہ ہر ایک کو یکساں فائدہ نہیں پہنچاتے۔ سائنسی جائزے بتاتے ہیں کہ ان کا اثر ان لوگوں میں زیادہ واضح ہوتا ہے جو کچھ عناصر کی حقیقی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ صحت مند لوگوں میں ان کی نشوونما کو تیز کرنے کے کافی شواہد موجود نہیں ہیں۔
تناؤ اور نیند
تحقیقات نے نفسیاتی دباؤ اور آرام کے مرحلے میں منتقل ہونے والے فولیکلز کی تعداد میں اضافے کے درمیان تعلق کو بھی ظاہر کیا ہے۔ اس تعلق کے نتیجے میں تناؤ کے شکار ہونے کے کچھ عرصے بعد نمایاں طور پر بال گرنے لگتے ہیں۔ اچھی نیند اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی عمومی طور پر جسم کی صحت کو سہارا دینے، خون کی گردش کو بہتر بنانے اور تناؤ کی سطح کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو بالواسطہ طور پر بالوں کو زیادہ صحت مند رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
علاج کی تلاش
روزمرہ کی عادات کی اہمیت کے باوجود یہ بالوں کے گرنے کی تمام اقسام کا علاج نہیں کرتیں۔ اگر بال بہت زیادہ، اچانک یا مہینوں تک مسلسل گر رہے ہوں تو یہ غذائی کمی، ہارمونل خرابی، تھائیرائڈ کے مسائل یا سر کی جلد کی کچھ بیماریوں سے جڑا ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں گھریلو نسخوں، جو تشخیص میں تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں، پر بھروسہ کرنے کے بجائے وجہ کا تعین کرنے اور مناسب علاج کے انتخاب کے لیے ماہرِ جلد سے رجوع کرنا ایک بنیادی قدم بن جاتا ہے۔