العربیہ ڈاٹ نیٹ کی خصوصی رپورٹ: سعودی عرب طبی سیاحت کا ابھرتا ہوا علاقائی مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

سعودی عرب جہاں ایک جانب اپنے صحت کے نظام کو جدید بنا رہا ہے اور عالمی معیار کے سیاحتی مقامات متعارف کرا رہا ہے، وہیں طبی اور شفائی سیاحت بھی تیزی سے ابھرتے ہوئے شعبوں میں شامل ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ شعبہ زیادہ اخراجات کرنے والے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ مختلف اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ آئندہ برسوں میں سعودی عرب علاج اور صحت افزا سیاحت کا ایک اہم علاقائی مرکز بن سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے سیاحت کے ماہر خالد باوزیر نے کہا کہ سعودی عرب کے پاس اس وقت جدید طبی اور سیاحتی انفراسٹرکچر موجود ہے، جس میں تخصصی اسپتال، منفرد ترقیاتی منصوبے اور سیاحتی مقامات میں نمایاں توسیع شامل ہے۔

ان کے مطابق اگر اس شعبے کے لیے مؤثر ضابطہ سازی اور مضبوط مارکیٹنگ کا نظام مکمل کر لیا جائے تو سعودی عرب عالمی سطح پر طبی سیاحت کی منڈی میں مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

طبی سیاحت اور شفائی سیاحت، دو مختلف شعبے

سیاحت کے ماہر خالد باوزیر نے واضح کیا کہ طبی سیاحت اور شفائی سیاحت میں بنیادی فرق ہے۔ ان کے مطابق طبی سیاحت سے مراد ایسے مریضوں کا دوسرے ملک سفر کرنا ہے جہاں وہ سرجری، خصوصی طبی علاج یا جدید طبی معائنے کروا سکیں، جبکہ شفائی سیاحت کا مقصد صحت کی بحالی، جسمانی و ذہنی سکون، قدرتی علاج، فزیوتھراپی، بحالیِ صحت کے پروگراموں اور صحت یابی کے دوران ماحول اور آب و ہوا سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ان دونوں شعبوں کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے سعودی عرب کے لیے اس وسیع عالمی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کے بہترین مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

جدید طبی ڈھانچہ سعودی عرب کی بڑی طاقت

خالد باوزیر نے کہا کہ سعودی عرب کے پاس جدید طبی شہروں، تخصصی اسپتالوں اور سرطان، امراضِ قلب، اعضا کی پیوندکاری اور طبی بحالی کے لیے جدید مراکز کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ہوائی اڈوں، معیاری ہوٹلوں اور دیگر معاون سہولتوں پر مشتمل جدید سیاحتی انفراسٹرکچر بھی موجود ہے، جو بیرونِ ملک سے آنے والے مریضوں کو ایک جامع اور معیاری تجربہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق ریاض، جدہ، طائف اور سعودی عرب کے جنوبی علاقے ان اہم مقامات میں شامل ہیں جو صحت اور سیاحت کی مربوط سہولتوں کی بدولت بیرونِ ملک سے آنے والے مریضوں کا استقبال کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

''امالا'' سعودی عرب میں صحت و عافیت کی سیاحت کا منفرد ماڈل

خالد باوزیر کے مطابق ''امالا'' منصوبہ سعودی عرب میں شفائی اور صحت افزا سیاحت کی نمایاں ترین مثال ہے، کیونکہ یہ ایک ہی مقام پر پرتعیش مہمان نوازی، صحت و تندرستی کے پروگرام، طویل اور بہتر زندگی کے تصورات اور جامع علاج کی سہولتیں قدرتی ماحول میں فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں عالمی معیار کے ریزورٹس، جن میں Clinique La Prairie Health Resort، Jayasom Wellness Resort اور Six Senses AMAALA شامل ہیں، قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہاں قدرتی علاج، غذائیت، جسمانی سرگرمی اور ذہنی سکون (Mindfulness) پر مبنی خصوصی پروگرام پیش کیے جائیں گے۔

باوزیر کے مطابق امالا کا منصوبہ 4200 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور اس کی تکمیل کے بعد یہاں سالانہ ایک لاکھ سے زائد سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طائف، عسیر اور الباحہ بھی اپنے خوشگوار موسم اور قدرتی حسن کی بدولت صحت یابی اور آرام و تفریح کی بہترین منزلیں بن سکتی ہیں، جبکہ الاحساء میں نخلستانوں، قدرتی چشموں اور قدرتی علاج پر مبنی سیاحتی منصوبے تیار کرکے سعودی عرب کی سیاحتی مصنوعات میں مزید تنوع پیدا کیا جا سکتا ہے۔

اعداد و شمار بڑے مواقع کی نشاندہی کرتے ہیں

خالد باوزیر نے کہا کہ میڈیکل ٹورازم انڈیکس (Medical Tourism Index) کی تازہ ترین درجہ بندی میں سعودی عرب دنیا میں 35ویں اور عرب ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔

ان کے مطابق یہ درجہ بندی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگر اس شعبے کے لیے ایک جامع قومی نظام تشکیل دیا جائے تو سعودی عرب نمایاں پیش رفت کر سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب پہلے ہی یمن، سوڈان، شام اور کئی افریقی ممالک سے آنے والے مریضوں کو اپنے اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کر رہا ہے، جو طبی سیاحت کا ایک اہم حصہ ہے، اگرچہ ان مریضوں کو سرکاری سیاحتی اعداد و شمار میں ہمیشہ شامل نہیں کیا جاتا۔

باوزیر کے مطابق طبی سیاحت کے معاشی فوائد صرف علاج کی فیس تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس میں ہوٹلوں میں قیام، سفری اخراجات، ریسٹورنٹس، خریداری اور مریضوں کے ساتھ آنے والے افراد کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے طبی سیاح دنیا بھر میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والے سیاحوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے عالمی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طبی یا شفائی سیاح عام سیاح کے مقابلے میں اوسطاً دو سے تین گنا زیادہ اخراجات کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران سعودی عرب میں تقریباً 2 کروڑ 93 لاکھ (29.3 ملین) غیر ملکی سیاح آئے، جن کے مجموعی اخراجات 172 ارب ریال سے تجاوز کر گئے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طبی سیاح فی سفر اوسطاً 18 ہزار ریال تک خرچ کر سکتا ہے، تاہم یہ رقم علاج کی نوعیت، دورانیے اور مریض کے ساتھ آنے والے افراد کی تعداد کے لحاظ سے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس شعبے کو مزید کس چیز کی ضرورت ہے؟

خالد باوزیر نے کہا کہ اگرچہ سعودی عرب کے پاس طبی اور شفائی سیاحت میں کامیابی کے لیے زیادہ تر بنیادی صلاحیتیں موجود ہیں، تاہم اس شعبے کی مزید ترقی کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں۔

ان میں طبی سیاحت سے متعلق الگ اعداد و شمار جاری کرنا، علاج پر مشتمل جامع پیکجز تیار کرنا، بیرونِ ملک مؤثر تشہیر کو فروغ دینا اور اسپتالوں، ہوٹلوں اور ٹریول کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اردن اس حوالے سے خطے کی ایک کامیاب مثال ہے، جہاں علاج کے لیے خصوصی ویزا، اسپتالوں کا مشترکہ پلیٹ فارم اور ایسے پیکجز متعارف کرائے گئے ہیں جن میں علاج، سفر، رہائش اور صحت یابی کی سہولتیں ایک ہی منصوبے کے تحت فراہم کی جاتی ہیں۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر باوزیر نے زور دیا کہ سعودی عرب کے پاس طبی اور شفائی سیاحت کا ایک جامع قومی ماڈل تشکیل دینے کے لیے تمام ضروری وسائل اور صلاحیت موجود ہے۔

ان کے مطابق اگر ان امکانات سے بھرپور انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو نہ صرف سعودی عرب کی عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا بلکہ سیاحت کا شعبہ قومی معیشت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرے گا اور سعودی وژن 2030 کے تحت آمدنی کے ذرائع متنوع بنانے کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں