ایئر کنڈیشنر کے بغیر، جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سمارٹ حل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں درجہ حرارت آسانی سے 49 ڈگری سیلسیس سے اوپر چلا جاتا ہے اور بہت سے لوگ ایئر کنڈیشنر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے یا اس کے استعمال کے لیے درکار بجلی کے بل ادا کرنے کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔

ویب سائٹ "این پی آر" کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق شدید گرمی سے نمٹنے کے طریقے موجود ہیں جن میں عام فہم مشورے شامل ہیں۔ کثرت سے مائعات پینا اور براہ راست دھوپ سے بچنا بھی شامل ہے۔ کچھ دیگر غیر معمولی حکمت عملیاں بھی ہیں جن کا امتزاج جسم کو واقعی ٹھنڈا ہونے میں مدد دے سکتا ہے۔

کثرت سے مشروبات کا استعمال

سب سے اہم اسباق میں سے ایک جو بہت سے لوگ سیکھتے ہیں وہ جسم میں پانی کی سطح کو برقرار رکھنے کا ہمیشہ خیال رکھنا ہے۔ اس لیے کوئی بھی جسمانی سرگرمی شروع کرتے ہی پانی پینا چاہیے، خواہ وہ چھوٹے گھونٹ ہی کیوں نہ ہوں ضروری ہوجاتا ہے۔ باہر نکلتے وقت پانی کی بوتل ساتھ رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی شخص کی جان بچا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ کچھ ایسے مشروبات بھی ہیں جو پسینے کے ساتھ ضائع ہونے والے نمکیات کی کمی کو پورا کرنے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ پھلوں کے فرحت بخش مشروبات جیسے گنے کا رس، ناریل کا پانی، آم کا رس یا دودھ اور لسی سے بنے ٹھنڈے مشروبات بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

مناسب خوراک کا استعمال

دوسرا سبق یہ ہے کہ کبھی بھی خالی پیٹ باہر نہ نکلیں، ہمیشہ کچھ نہ کچھ کھانا چاہیے۔ مثال کے طور پر کھیرا (جس میں حل پذیر نمکیات ہوتے ہیں) یا ناشتے کے طور پر اناناس کھانا فائدہ مند رہے گا۔

نہانے کے فوائد

اگر کوئی شخص گرمی محسوس کرے تو وہ ٹھنڈے پانی سے نہا سکتا ہے یا کم از کم وقتاً فوقتاً اپنے چہرے اور ہاتھوں پر پانی چھڑک سکتا ہے اور سر کو پانی سے دھو سکتا ہے - اس سے جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

آرام کے لیے ٹھنڈی جگہ

اس عمارت کے سب سے ٹھنڈے حصوں کو تلاش کرنے کا خیال رکھا جانا چاہیے جہاں انسان رہتا ہے اور اسے سونے یا بیٹھنے کی جگہ بنانا چاہیے۔ چونکہ گرمی اوپر کی طرف اٹھتی ہے، اس لیے کثیر منزلہ مکانات کی نچلی منزلیں زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ بالکونیاں سایہ دار اور ہوا دار ہوتی ہیں۔ دن کے وقت موٹے پردوں کے ذریعے بھی دھوپ کو روکنا چاہیے اور اگر پنکھے موجود ہوں تو انہیں چلانا چاہیے۔ کبھی کبھی اندر کا ماحول بہت دم گھٹنے والا ہو جاتا ہے تو اس کے لیے انسان کو باہر جا کر جھولے پر لیٹ جانا چاہیے۔ جھولنے سے پیدا ہونے والی ہوا جسم کو ٹھنڈا کرنے میں مدد دیتی ہے۔

سمارٹ طریقے

ٹھنڈی اور نم ہوا اندر لانے کی سمارٹ طریقوں میں سے ایک دروازوں پر تنکوں سے بنا ہوا پردہ لٹکانا ہے۔ جب اس پر پانی چھڑکا جاتا ہے تو یہ گرم ہوا کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے میں بدل دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں اس مقصد کے لیے ایک خاص قسم کی خوشبودار گھاس استعمال کی جاتی ہے جسے "خس" کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ باریک بانس سے بنے پردے بھی ہیں جو براہ راست دھوپ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں - ٹھنڈک کے لیے اندر کی طرف ایک باریک گیلا کپڑا شامل کیا جاتا ہے۔ یا ایک بھاری اور نم کپڑا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک سادہ کپڑے کا پردہ بھی کافی ہو سکتا ہے۔

ڈیزرٹ کولر کا اثر

ڈیزرٹ کولر جو بہت زیادہ مقبول ہے بھی کم نمی والے ماحول میں انتہائی اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اس الیکٹرک ڈیوائس کو ایواپوریٹو کولر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کمرے کی ہوا کو پانی سے تر پیڈز کے اوپر سے گزارتا ہے جس سے ہوا ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور پھر اسے واپس کمرے میں پمپ کرتا ہے۔ یہ ایئر کنڈیشنرز کے مقابلے میں سستے آلات ہیں اور کم توانائی استعمال کرتے ہیں۔

ہلکے رنگ کے کپڑے

مغربی ہندوستان کے ایک خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھنے والی راباری قوم کے لوگ اور کئی دیگر قبائلی برادریاں سورج کی روشنی کو منعکس کرنے کے لیے اپنے کپڑوں پر چھوٹے شیشے استعمال کرتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے کپڑوں میں سوتی اور کتان کے کپڑے بھی استعمال کرنے ہیں کیونکہ یہ دونوں ہوا کو ٹھنڈا کرتے ہیں کیونکہ ان کے بنے ہوئے دھاگوں میں بڑے مسام ہوتے ہیں جو ہوا کی گردش کی اجازت دیتے ہیں۔

ان کا اپنے کپڑوں میں رنگوں کا انتخاب انتہائی سمارٹ ہے۔ وہ اس حقیقت کا چالاکی سے فائدہ اٹھاتے ہیں کہ سیاہ رنگ نہ صرف سفید کے مقابلے میں گرمی کو تیزی سے جذب کرتا ہے بلکہ اسے بہت تیزی سے خارج بھی کرتا ہے۔ اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے یہ عورتیں مسلسل اپنے خیموں کے اندر اور باہر جاتی رہتی ہیں۔ مویشی چرانے والے مرد زیادہ دیر تک باہر رہتے ہیں۔ اس لیے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے خواتین کو گہرے رنگ پہننے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ رنگ بند جگہ میں داخل ہوتے ہی جلدی ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ جبکہ مرد ہلکے رنگ پہنتے ہیں کیونکہ وہ کھلی ہوا میں طویل قیام کے دوران گہرے رنگوں کے مقابلے میں زیادہ آہستہ گرم ہوتے ہیں۔

سر یا گردن کو ڈھانپنا

گرمیوں کے موسم میں سر ڈھانپنا ایک پرانی عادت ہے۔ چاہے امرا پگڑی پہنتے ہوں یا عام لوگ روایتی سوتی گیلے مستطیل کپڑے کا استعمال کرتے ہوں۔ سر ڈھاپنے کی اس قدیم روایت میں مردوں کے لیے "گامچھا" اور عورتوں کے لیے "دوپٹہ" استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ گامچھا ایک گیلے سفید تولیے کی طرح ہوتا ہے جو دیہی علاقوں اور حتیٰ کہ شہروں میں بھی عام استعمال ہوتا ہے۔

دوپہر کی دھوپ سے پرہیز

دن کے گرم ترین گھنٹوں کے دوران، باہر نکل کر، ورزش کر کے یا باہر کھڑے ہو کر توانائی ضائع کرنے یا تھکنے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جھلسادینے والی دھوپ اور گرم ہوا گرمی کے احساس کو مزید بڑھا دے گی۔

سائے کا استعمال

خواہ کوئی شخص کھلی ہوا میں کام کر رہا ہو یا سڑک پر چل رہا ہو اسے درختوں کے فراہم کردہ سائے میں رہنا چاہیے۔ ہوا کا اصل درجہ حرارت دھوپ میں بھی وہی ہوتا ہے لیکن جلد سورج کی شعاعوں کو جذب نہیں کرے گی اور اس سے جسم کا درجہ حرارت نہیں بڑھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں