.

مناسک حج سے فراغت کے بعد حجاج کرام تحائف کی خریداری میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حجاج کرام مناسک حج کی ادائی سے فراغت کے بعد اس وقت واپسی کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ تحائف کی خریداری میں مصروف ہیں۔ مکہ معظمہ کے بازاروں میں اس وقت حجاج کرام کا غیرمعمولی رش ہے اور ہرایک استطاعت کے مطابق تحائف کی خریداری میں مصروف ہے۔

ویسے تو مردو خواتین حجاج کرام کی خریداری کی چیزیں الگ الگ ہیں مگر ان میں اشیاء مشترک ہیں۔ زیادہ تر خرید کی جانے والی اشیاء میں بچوں کے کھلونے، کپڑے، عطریات، مصلے، حرمین شریفین کے نمونے اورتسابیح شمال ہیں۔ اسی طرح بہت سے حجاج کرام کھجوریں،خانہ کعبہ اور مسجد حرام کی تصاویر، الیکٹرونک کھلونے اور لیکٹرانک کے آلات بھی شامل ہیں۔

بعض حجاج کرام کو 'الطیبین' کے تحفے کی تلاش میں بھی دیکھا گیا ہے۔ یہ تحفہ عام طورپر حجاج کرام اپنے بچوں کے لیے خرید کرتے ہیں۔

'الطیبین' ایک کیمرے کی شکل کی دوربین ہے جس میں چھوٹی چھوٹی کاغذ نما تصاویری فلمیں زیادہ قریب سے دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان تصاویر میں مقام ابراہیم، حجر اسود، خانہ کعبہ اور دیگر مقدس مقامات کی تصاویر شامل ہوتی ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب کے حج کمیشن اور مکہ معظمہ ایوان صنعت وتجارت کے رکن محمد سعد القرشی نے بتایا کہ اندرون ملک حجاج کرام تحائف کی خریداری پر 30 ملین ریال کی رقم خرچ کرتے ہیں۔ کپڑے، تسبیحات اور دیگر اشیاء مکہ کے بازروں سے خرید کی جاتی ہیں