حج سیزن

مزدلفہ میں شب بسری کے بعد حجاج کی شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے منیٰ میں آمد

حجاج جمرات میں رمی کرنے کے بعد قربانی کرتے ہیں جس کے مکمل ہو جانے کے بعد بال منڈوانے کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں عازمین حج کے قافلے آج مزدلفہ سے واپس منیٰ کی جانب لوٹ رہے ہیں جہاں پہنچ کر وہ حج کا رکن رمی جمرات ادا کریں گے۔

جمرات کے مقام پر رمی جسے ’شیطانوں کو کنکریاں مارنا‘ کہا جاتا ہے، یہ عمل حج کے اہم مناسک میں سے ایک ہے۔ عازمین گذشتہ شام میدان عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔

حجاج جمرات میں رمی کرنے کے بعد قربانی کریں گے جس کے مکمل ہو جانے کے بعد حلق یا تقصیر (بال منڈوانے یا کٹوانے) کے بعد احرام کھول دیں گے۔

حجاج کرام قافلوں کی شکل میں جوق در جوق رمی جمرات کے لیے رواں دواں: العربیہ
حجاج کرام قافلوں کی شکل میں جوق در جوق رمی جمرات کے لیے رواں دواں: العربیہ

قبل ازیں رات کو انہوں نے خطبہ حج کے بعد نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کرنے کے بعد مغرب سے قبل مزدلفہ کی طرف رخت سفر باندھا۔ رات مزدلفہ میں گذار نے کے بعد حاجی شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے لیے منیٰ میں موجود خصوصی جمرات کمپلیکس جا رہے ہیں۔

مشاعر مقدس میں مزدلفہ تیسرا مقام

مزدلفہ، منیٰ اور عرفات کے درمیان واقع ہے۔ مشاعر مقدسہ میں اسے تیسرا مقدس مقام قرار دیا جاتا ہے۔ مزدلفہ کے نام کے حوالے سے روایت ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ حجاج یہاں رات کی تاریکی میں پہنچتے ہیں۔ اسی منابست سے اسے مزدلفہ یعنی (رات کی منزل) کہا جانے لگا۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مزدلفہ نام دینے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پہنچنے پر حجاج حرم مکی کے قریب ہو جاتے ہیں اس کے معنی ہوتے ہیں کہ وہ منزل جہاں پہنچنے پر حجاج حرم کے قریب ہو گئے۔

حجاج شطانوں کو مارنے کے لیے مزدلفہ سے کنکریاں جمع کر رہے ہیں
حجاج شطانوں کو مارنے کے لیے مزدلفہ سے کنکریاں جمع کر رہے ہیں

یہاں پر حجاج کرام مغرب اور عشاء کی نمازیں قصر کے ساتھ جمع کرتے ہیں اور جمرات کے لیے کنکریاں اکھٹی کرتے ہیں۔ عید کی صبح تک حاجی یہاں پر رات گذارتے ہیں اور صبح کو منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

مزدلفہ کا رقبہ 13مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس کے مغرب میں منیٰ اور مشرق میں عرفات ہے۔ یہیں وادی المحشر ہے یہ چھوٹی وادی ہے جو منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان واقع ہے۔ ایک طرح سے یہ وادی منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان حد فاصل کا کام دیتی ہے۔

جمرات کمپلیکس

رمی کو آسان اور محفوظ بنانے کے لیے جمرات کمپلیکس بنایا گیا ہے جو 950 میٹر طویل ہے۔ اس کا عرض 80 میٹر ہے اوریہ چہار منزلہ ہے۔

مستقبل میں کمپلیکس پر 12 منزلیں تعمیر کرنے کی گنجائش ہے جس سے 50 لاکھ حجاج بیک وقت رمی کر سکیں گے۔

رمی کے لیے شیڈول کے مطابق حاجیوں کو قافلوں کی شکل میں بھیجا جاتا ہے۔

منیٰ میں رمی جمرات کے لیے تیارکردہ خصوصی پل
منیٰ میں رمی جمرات کے لیے تیارکردہ خصوصی پل

جمرات کمپلیکس کی تعمیر میں ایک اور بات کا اہتمام کیا گیا ہے، وہ یہ کہ سارے حجاج کو ایک ساتھ، جمرات پل کے کسی ایک راستے پر جمع ہونے سے روکا جائے۔ اسی لیے کئی راستے بنائے گئے ہیں۔

جمرات کے پل کو مشاعر مقدسہ (منیٰ، مزدلفہ اور عرفات) ٹرین سے بھی مربوط کر دیا گیا ہے تاکہ حجاج رمی کے بعد مطلوبہ منزل تک باآسانی پہنچ سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں