سعودی عرب کے وزیر داخلہ اور سپریم حج کمیٹی کے سربراہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف نے حج کے دوران سکیورٹی کے فرائض انجام دینے والی فورسز کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ یہ جائزہ اس سال 1446 ہجری کے حج سیزن میں شریک سیکیورٹی فورسز کے سالانہ تقریب کے موقع پر لیا گیا۔
وزیر داخلہ نے تقریب کے دوران کہا کہ "خادمِ حرمین شریفین اور ولی عہد، وزیر اعظم کی ہدایت پر آج میں نے حج سکیورٹی فورسز کی تیاریوں کا مشاہدہ کیا۔ میں اس مکمل تیاری، اعلیٰ صلاحیتوں اور وسائل کو دیکھ کر فخر محسوس کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنی قیادت کی توقعات پر پورا اترنے، اور ہر پہلو سے ایک پُرامن اور کامیاب حج کے انعقاد میں کامیابی عطا فرمائے"۔
بتوجيه من سيدي خادم الحرمين الشريفين وسمو سيدي ولي العهد رئيس مجلس الوزراء -حفظهما الله- شهدت اليوم استعدادات قوات أمن الحج، وأعتز بما رأيته من جاهزية تامة، وإمكانات عالية، وأسأل الله أن يوفقنا جميعاً لتحقيق تطلعات قيادتنا بتحقيق حج آمن وناجح على جميع الأصعدة،،، pic.twitter.com/o8PQLUMK6h
— عبدالعزيز بن سعود بن نايف Abdulaziz bin Saud (@AbdulazizSNA) May 31, 2025
امنِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل اور حج کے لیے قائم سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد البسامی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
"دانشمند قیادت نے حجاج کرام کی خدمت اور ان کی نگہداشت کے لیے ہر ممکن سہولت اور وسائل فراہم کیے ہیں، اور اس کام کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ انہی عظیم کوششوں کی بدولت ہمیں ہجوم کے نظم و نسق، مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی، منصوبہ بندی اور یکجہتی کے وہ عملی نمونے ملے ہیں جنہیں دنیا میں قابلِ تقلید سمجھا جاتا ہے، تاکہ اللہ کے مہمان امن و اطمینان کی فضا میں اپنے مناسک ادا کر سکیں۔"
لیفٹیننٹ جنرل البسامی نے مزید کہا کہ "حج سکیورٹی فورسز پوری طرح تیار اور چوکنا ہیں اور کسی بھی قسم کے خطرے یا ایسی کوشش کا پوری سختی اور مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں جو حجاج کے امن یا عبادات میں خلل ڈالنے کا باعث بنے۔ ہمارا مقصد حجاج کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ سکون اور سہولت کے ساتھ اپنے مناسک ادا کر سکیں۔"
تقریب کے دوران مختلف سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کی عملی مشقیں بھی کی گئیں، جن میں کئی سیکیورٹی گاڑیوں، جدید آلات، فضائی نگرانی کے طیاروں اور حج کے دوران استعمال ہونے والی مخصوص گاڑیوں کا مظاہرہ بھی شامل تھا۔
یہ تمام اقدامات حجاج کرام کے لیے ایک محفوظ، منظم اور پُرامن ماحول یقینی بنانے کے عزم کا اظہار ہیں۔