میں 'معصوم لوگوں' کی حفاظت کرنا چاہتا تھا: بونڈائی بیچ حملے کے ہیرو کا بیان

سڈنی کے ہسپتال میں زیرِ علاج الاحمد کا امریکہ کے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بونڈائی بیچ حملے کے ہیرو احمد الاحمد نے وہ لمحہ یاد کیا جب وہ ایک حملہ آور کی طرف بھاگے اور اس کی بندوق چھین لی۔ پیر کو ایک امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ پر شائع ہونے والے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ "معصوم لوگوں" کی حفاظت کرنا چاہتے تھے۔

مذکورہ دہشت گرد حملے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے جسے حکام نے یہود دشمن دہشت گرد حملہ قرار دیا۔

سانحے کے باوجود ان لوگوں کی بہادری کی داستانیں سامنے آئیں جنہوں نے مہلک حملے کے دوران دو حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

ان میں ایک پھل فروش احمد الاحمد بھی شامل تھے جو حملہ ہونے کے بعد کھڑی ہوئی گاڑیوں کے درمیان چھپ گئے اور پھر ایک حملہ آور کی بندوق چھین لی۔ ان کے بہادری کا یہ منظر کیمرے میں قید ہو گیا جو کچھ ہی دیر بعد انٹرنیٹ پر زیرِ گردش تھا۔

"میرا مقصد صرف اس سے بندوق چھیننا تھا اور اسے کسی انسان کی جان لینے اور معصوم لوگوں کو قتل کرنے سے سے روکنا تھا،" انہوں نے پیر کو نشر کردہ ایک انٹرویو میں سی بی ایس نیوز کو بتایا۔

نیز کہا، "میں جانتا ہوں کہ میں نے کئی جانیں بچائیں لیکن جو جانیں ضائع ہو گئیں، مجھے ان کا افسوس ہے۔"

احمد کو حملہ آور کو قابو کرنے کے دوران کندھے میں گولیوں کے کئی زخم آئے اور کئی دفعہ سرجری سے گذرنا پڑا۔

انہوں نے وہ لمحہ یاد کیا جب انہوں نے بندوق بردار کی پشت پر "چھلانگ لگائی"، اسے دائیں ہاتھ سے پکڑا اور کہا: "اپنی بندوق گرا دو اور جو کر رہے ہو، اسے روک دو"۔

انہوں نے ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو بتایا، "میں اپنے سامنے لوگوں کو قتل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا، میں خون بہتا نہیں دیکھنا چاہتا، میں اس کی بندوق کی آواز نہیں سننا چاہتا، میں لوگوں کو چیختے اور مدد کی التجا کرتے نہیں دیکھنا چاہتا،" احمد نے ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو بتایا۔

فائرنگ کے وقت احمد ساحل سمندر پر ایک کپ کافی لے رہے تھے۔

دو بچوں کے والد الاحمد 2007 میں شام سے ہجرت کر کے آسٹریلیا آ گئے تھے، فائرنگ کے چند دنوں بعد احمد کے آبائی شہر النیراب میں ان کے چچا محمد نے یہ بات اے ایف پی کو بتائی۔

کاشتکاری کرنے والے محمد نے کہا، "ان کا یہ عمل ہمارے اور شام کے لیے باعثِ فخر ہے۔"

مقامی میڈیا نے اطلاع دی کہ آسٹریلوی حکومت نے تیز رفتاری سے کام کرتے ہوئے احمد کے عزیزوں کے لیے متعدد ویزے جاری کیے۔

وزیرِ داخلہ ٹونی برک نے ایک بیان میں کہا، "احمد نے ہمت اور اُن اقدار کا مظاہرہ کیا ہے جو ہم آسٹریلیا میں چاہتے ہیں۔"

ایک 50 سالہ حملہ آور اور بھارتی شہری ساجد اکرم کو پولیس نے حملے کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جو 1998 میں ویزا پر آسٹریلیا میں داخل ہوا تھا۔

اس کا 24 سالہ بیٹا اور آسٹریلوی نژاد شہری نوید زیر حراست ہے جس پر دہشت گردی اور 15 افراد کے قتل کے ساتھ ساتھ "دہشت گرد کارروائی" اور لوگوں کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے بم نصب کرنے کے الزامات ہیں۔

اس نے تاحال الزامات کا جوابہ داخل نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں