حج کے بعد زائرین کی آمد، مدینہ کا روڈ نیٹ ورک مسافروں کے لیے تیار
سفرِ حج کے آخری مرحلے میں حجاج کی مدینہ آمد، بہترین سفری سہولیات کا انتظام
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے مدینہ منورہ کے روڈ نیٹ ورک پر وسیع پیمانے پر تیاریاں مکمل کر لی ہیں جیسا کہ اس سال حج کے بعد حجاج کا پہلا گروپ مکہ مکرمہ سے یہاں پہنچ گیا ہے۔
جمعہ کے روز مدینہ منورہ میں حج کے بعد پہلی بار حجاج کا خیر مقدم کیا گیا۔ حکام نے کہا کہ پورے شہر میں ان کی آمد اور نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے فیلڈ، ٹرانسپورٹ اور تنظیمی خدمات کا ایک جامع پیکج فعال کر دیا گیا۔
اگرچہ مدینہ کا دورہ حج کا رسمی حصہ نہیں ہے لیکن یہ شہر مسلمانوں کے لیے اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ وہ مسجدِ نبوی میں نماز ادا کرنے کے لیے وہاں جاتے ہیں اور پیغمبرِ اسلام کی زندگی سے وابستہ تاریخی اسلامی مقامات کا دورہ کرتے ہیں۔ حج کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک حجاج کی سالانہ نقل و حرکت مملکت میں ایک سب سے بڑا سفری عمل ہے جو بار بار ہوتا ہے۔
روڈز جنرل اتھارٹی نے کہا کہ اس نے علاقے میں حجاج کی محفوظ اور ہموار نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع منصوبے کو حتمی شکل دی ہے جس میں آمد سے قبل حفاظتی و سفری اقدامات کا وسیع پروگرام مرتب کیا گیا ہے۔
سڑکوں کے حالات کی نگرانی اور فیلڈ آپریشنز میں معاونت کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز استعمال کی گئی ہیں جبکہ چوبیس گھنٹے اطلاعات حاصل کرنے اور مدد فراہم کرنے کے لیے اتھارٹی نے اپنے 938 کال سینٹر فعال کر دیے ہیں۔ سڑکوں کی نگرانی اور حقیقی وقت میں مسافروں کو مدد دینے کے لیے 300 فیلڈ انسپکٹرز کا نیٹ ورک بھی پوری مملکت میں تعینات کیا گیا ہے۔
اس دوران مدینہ منورہ میں حج حکام اور دیگر سرکاری اداروں نے حج کے بعد بڑی تعداد میں عازمین کے استقبال کے لیے تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہم آہنگی میں کام کرتے ہوئے فیلڈ ٹیمیں آنے والی بسوں کا انتظام کر رہی ہیں جبکہ ہوائی اور سمندری مسافروں کے لیے امیگریشن کی سہولیات موجود ہیں، ایس پی اے نے بتایا۔
یہ تیاریاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب سعودی حکام دنیا کی ایک سب سے بڑی سالانہ سفری سہولیات کا انتظام کر رہے ہیں۔ 60 سے زیادہ سرکاری اداروں نے 2026 کے حج سیزن کے دوران سپریم حج کمیٹی کی زیرِ نگرانی خدمات انجام دیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال 1,707,301 عازمین نے حج کیا جو کہ 2025 کے مقابلے میں 2.04 فیصد زیادہ ہے۔
حج و عمرہ کے وزیر توفیق الربیعہ نے کہا کہ قبل ازیں 366 مقامات سے 173,000 سے زائد پروازیں حجاج کو لے کر پہنچیں۔ عقیدت مندوں کو مکہ، مدینہ اور مقدس مقامات کے درمیان منتقل کرنے کے لیے ہزاروں ٹرینز اور بسیں بھی چلائی گئیں۔
سعودی حکام نے نسک پلیٹ فارم کے ذریعے ڈیجیٹل خدمات کو وسعت دی، شعبہ صحت کی صلاحیت میں اضافہ کیا اور وژن 2030 کے تحت حجاج کے تجربے کو خوشگوار بنانے کی وسیع تر کوششوں کے سلسلے میں بجلی، پانی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کیا۔
جیسا کہ نمازی حج کی تکمیل کے بعد مملکت کے مقدس مقامات کا دورہ جاری رکھتے ہیں تو مدینہ میں سفر اور استقبال کی تیاریوں کو ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ لاکھوں حجاج کو سفر کے آخری مرحلے میں مدد فراہم کی جائے اور محفوظ اور مؤثر سفر یقینی ہو۔