سعودی مرد ایس ایم ایس کے ذریعے محارم خواتین کی نگرانی کر سکیں گے

خاتون کے سرحد چھوڑتے ہی ایمیگریشن الرٹ کا اجراء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سماجی رابطے کی ویب سائٹس 'ٹیوٹر' اور 'فیس بک' پر اس نظام کی حمایت اور مخالفت میں دلائل کا تبادلہ جاری ہے تاہم سعودی روزنامے 'اخبار الیوم' کے مطابق اس پابندی کا محرک ایک واقعہ بتایا جاتا ہے کہ جس میں ایک سعودی خاتون نے مبینہ طور پر ترک اسلام کے بعد عیسائیت اختیار کی اور پھر خاموشی سے لبنان فرار ہو گئی۔

بعد میں یو ٹیوب پر ایک ویڈیو میں اس تیس سالہ خاتون نے عیسائی مذہب اختیار کرنے کی تردید کر دی تھی۔ اخبار 'الیوم' سے گفتگو کرتے خاتون نے بتایا کہ وہ قیامت تک مسلمان رہے گی۔ اس نے کہا کہ بعض گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے اس کے لبنانی باس نے اسے مشورہ دیا کہ وہ لبنان جیسے آزاد ملک چلی جائے تو مسائل حل ہو جائیں گے جس پر وہ بیروت چلی گئی۔

اخبار کے مطابق ائرپورٹ سے چند لوگ زبردستی اسے ایک خانقاہ لے گئے جہاں اسے بطور خادمہ کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ مذکورہ خاتون کے والد کی شکایت پر ایک لبنانی شہری کو سعودی عرب کے شہر 'خبر' کی عدالت نے پیر کے روز جیل بھیج دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں