.

ایران کی سدِجارحیت کے لیے پہلی مرتبہ سائبر جنگی مشقیں

آبنائے ہرمز کے نزدیک ایرانی بحریہ کے مختلف ہتھیاروں کے تجربات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کی بحریہ نے تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز کے نزدیک رعد میزائل سمیت مختلف ہتھیاروں کے تجربات کیے ہیں اورسد جارحیت کے لیے پہلی مرتبہ سائبر جنگی مشقیں بھی کی ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے بحریہ کے ترجمان ایڈمرل امیر راستگیری کے حوالے سے بتایا ہے کہ آبنائے ہُرمز میں دوسرے ہتھیاروں کے علاوہ ملک میں تیارکردہ فضائی دفاعی نظام رعد کا تجربہ کیا گیا ہے۔یہ میزائل پچاس کلومیٹر فاصلے تک مار کرسکتے ہیں اور پچھتر ہزار فٹ کی بلندی پر موجود اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ آبدوزوں کے علاوہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے راکٹوں کے بھی تجربات کیے گئے ہیں۔ایرانی بحریہ کی مشقوں کا آغاز گذشتہ جمعہ کو ہوا تھا اور یہ آیندہ بدھ کو ختم ہوں گی۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحری افواج نے پہلی مرتبہ سائبر مشقیں بھی کی ہیں۔رئیرایڈمرل امیر راست گیری نے بتایا کہ بحریہ نے فوجی مشقوں کے دوران دفاعی افواج کے کمپیوٹر نیٹ ورک پر سائبر حملہ کیا تھا۔اس کا مقصد اس نیٹ ورک میں دراندازی کرکے اس کی معلومات ہیک کرنا یا اس میں وائرس پھیلانا تھا۔ان کے بہ قول سائبر حملے کا کامیابی سراغ لگالیا گیا اور اس کی بروقت روک تھام کر لی گئی۔

واضح رہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران ایران کے صنعتی اداروں،مواصلاتی نیٹ ورکس ، جوہری تنصیبات اوربنک کاری نظام پر متعدد سائبر حملے کیے گئے ہیں۔ان حملوں میں ایرانی اداروں کا ڈیٹا تباہ کرنے کے علاوہ ان کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا گیا۔ایران نے اسرائیل اور امریکا پر ان حملوں کا الزام عاید کیا تھا۔اب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے سائبر حملوں کے مقابلے کے لیے سول اور فوجی یونٹ تشکیل دے دیے ہیں۔

ایرانی بحریہ گذشتہ ایک ہفتے سے خلیج فارس اور خلیج اومان میں فوجی مشقیں کررہی ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد بحری افواج کی دفاعی صلاحیتوں کا جائزہ لینا اور دوست اور علاقائی ممالک کو امن اور دوستی کا پیغام دینا ہے اور ان کا مقصد آبنائے ہُرمز کو بند کرنا نہیں۔یہ آبی گذرگاہ تیل کی نقل وحمل کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

ایران کی تینوں مسلح افواج سال میں متعدد مرتبہ جنگی مشقیں کرتی ہیں جن میں حربی تیاریوں کاجائزہ لیاجاتا ہے۔ایران ایسے وقت میں بحری فوجی مشقیں کررہا ہےجب اس کی مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری پروگرام کے تنازعے پر محاذ آرائی کے خاتمے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور اقوام متحدہ ،امریکا اور یورپی یونین کی عاید کردہ پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔مغربی طاقتوں کا ایران پرالزام ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے ذریعے جوہری بم تیارکرنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ ایران اس کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔