نیجر میں یکے بعد دیگرے دو خودکش کاربم دھماکے،26 افراد ہلاک

شمالی شہر اجادیز میں چار خودکش بمباروں کا فوجی چھاؤنی پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افریقی ملک نیجر میں یکے بعد دیگرے دوخودکش بم دھماکوں میں چھبیس افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔

نیجری اور فرانسیسی حکام کی اطلاع کے مطابق شمالی شہراجاديز میں جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب خودکش حملہ آور نے ایک فوجی کمیپ کو نشانہ بنایا ہے۔اس واقعے کے چند لمحے کے بعد ایک اور بمبار نے دوردراز واقع قصبے آرلیط میں فرانس کے زیرانتظام یورینیم کی ایک کان کے باہر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

ان دونوں مقامات کے درمیان ایک سو سے زیادہ میل کا فاصلہ ہے لیکن اسلامی جنگجوؤں نے فوج کی محافظت میں دونوں مقامات پر قریباً بیک وقت حملے کیے ہیں۔ایک فرانسیسی ریڈیو چینل کی اطلاع کے مطابق حرکۃ التوحید والجہاد نامی تنظیم نے ان دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔اس تنظیم کے شمالی افریقہ میں القاعدہ سے روابط بتائے جاتے ہیں۔

اجادیز شہر نیجر کے دارالحکومت نیامے سے ایک ہزار کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔اس شہر میں حملہ آور نے بارود سے بھری کار کو فوجی چھاؤنی میں دھماکے سے اڑا دیا۔نیجر کے وزیردفاع محمدو کیریجو نے نیامے میں ایک ہنگامی نیوزکانفرنس میں بم دھماکے میں بیس فوجیوں کی ہلاکت اور سولہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

نیجر کے وزیرداخلہ عبدو لابو نے بتایا ہے کہ فوجی چھاؤنی پر چار بمباروں نے حملہ کیا تھا اور ان میں سے تین خودکش بمباروں کو ہلاک کردیا گیا ہے اور چوتھا فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے فوجی کیڈٹوں کے ایک گروپ کو یرغمال بنا لیا ہے۔اس نے بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی ہے اورخود کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکی دی ہے۔

اجادیز سے دوسوچالیس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع قصبے آرلیط میں فرانسیسی کمپنی آریوا کے زیرانتظام یورینیم کی کان کے باہر دو خودکش بمباروں نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں فرانسیسی کمپنی کا ایک ملازم ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے۔واقعے میں دونوں بمبار مارے گئے ہیں۔نیجر کی حکومت نے ان بم حملوں میں فوجیوں کی ہلاکت پر تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

مالی سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے نیجر میں اب تک یہ سب سے تباہ کن بم دھماکے ہیں۔واضح رہے کہ مالی میں فرانسیسی فوج کے اسلامی جنگجوؤں کے خلاف اس سال کے اوائل میں فضائی حملوں کے بعد وہ پہاڑی علاقوں کی جانب چلے گئے تھے اور انھوں نے دنیا بھر میں فرانسیسی مفادات کے علاوہ اس کے ساتھ فوجی کارروائی میں تعاون کرنے والی افریقی حکومتوں کے خلاف بھی حملوں کی دھمکی دی تھی۔نیجر نے مالی میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں فرانس کی معاونت کے لیے اپنے ساڑھے چھے سو فوجی بھیجے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں