سعودی عرب میں دو ریال 'حق مہر' کے بدلے شادی کا فریضہ انجام
بنی ثابت قبیلے کا کم سے کم 'حق مہر' لینے کی روایت پر اظہار تفاخر
سعودی عرب کے جنوب میں دس ہزار نفوس پر مشتمل بنی ثابت قبیلہ کم سے کم حق مہر کے عوض شادیوں کے لئے مشہور ہے۔ اسی شہرت کو دوام بخشنے کے لئے حال میں النماس صوبے میں ایک ایسی شادی انجام پائی کہ جس میں دلہن کے والدین کو صرف دو سعودی ریال [تقریبا ایک ڈالر سے بھی کم] رقم بطور حق مہر ادا کی گئی۔ قبیلے میں دلہن کے والدین کو دو ریال حق مہر ادائیگی کی رسم تین سو برس قدیم ہے، جس پر آج بھی عمل کیا جا رہا ہے۔
النماس صوبے میں بنی ثابت قبیلہ کی کم سے کم حق مہر دینے کی روایت عرب دنیا میں میں رائج ایسی روایات کے برعکس ہے کہ جہاں بالخصوص خلیجی ممالک میں دلہن کے والدین، دلہا کے خاندان سے زیور سمیت قیمتی تحائف کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بنی ثابت قبیلے کے ایک بزرگ نے کم سے کم حق مہر دینے کی روایت کا دفاع کرتے ہوئے العربیہ کو بتایا کہ ہمارے قیبلے میں عورتیں دو ریال کے عوض شادی کے بندھن میں بندھنے پر عزت اور فخر محسوس کرتی ہیں۔
سماجی ادارے سعودی عرب میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کے بارے میں متنبہ کرتے چلے آ رہے ہیں، تاہم بنی ثابت قبیلے کے ایک رکن نے بتایا کہ قومی رحجان کے برعکس ان کے دس ہزار افراد پر مشتمل قبیلے میں طلاق کا رحجان نہیں پایا جاتا اور نہ ہی دلہا کے خاندان سے بھاری حق مہر کے مطالبے کی وجہ سے ہماری بچیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی نہیں ہوتیں۔
النماس صوبے کی انوکھی روایت سعودی عرب کے دوسرے علاقوں میں بسنے والوں کے لئے ایک صدمے سے کم نہیں۔
بنی ثابت قبیلے کے متعدد افراد کا کہنا ہے کہ جب انہیں صوبے سے باہر اپنی شادی کی دستاوہزات کو پراسس کروانا ہوتا ہے تو انہیں عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کہ بہ قول حکومتی عمال دو ریال کے عوض شادی کو 'بازاری' قرار دینے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔