شامی جنگجو گروپ النصرۃ محاذ پر اقوام متحدہ کی پابندیاں عاید

بشارالاسد مخالف تنظیم کا نام القاعدہ سے متعلق گروپوں کی فہرست میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کو القاعدہ سے تعلق کے الزام میں اپنی پابندیوں والی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

سلامتی کونسل کی القاعدہ پر پابندیاں عاید کرنے کی ذمے دار کمیٹی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس گروپ کے دنیا بھر میں اب اثاثے منجمد کر لیے جائیں گے اور اس کو اسلحہ مہیا کرنے پر بھی پابندی عاید ہوگی''۔

شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار جنگجو تنظیم النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے گذشتہ ماہ القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے ساتھ وفاداری کا اظہار کیا تھا لیکن اپنے گروپ کے عراقی القاعدہ میں ضم ہونے کے دعووں کی تردید کی تھی۔

امریکی حکومت نے گذشتہ سال النصرۃ محاذ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا اور اس کے لیڈر ابو محمد الجولانی کا نام گذشتہ ماہ دہشت گردوں کی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا تھا۔

اس تنظیم نے شامی صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ سوا دوسال سے جاری مسلح عوامی احتجاجی تحریک میں اب تک اہم کردار ادا کیا ہے اور اس نے شامی فوج کے مقابلے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی تھیں جس کی وجہ سے شام میں اس نے اپنی اچھی شہرت بنا لی تھی لیکن بعض مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور دوسرے مغربی شامی صدر کے مقابلے میں اعتدال پسند جنگجو گروپوں کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور وہ کسی ایسی تنظیم کے حق میں نہیں جس کے القاعدہ سے کسی طرح کے تعلقات ہوں اور وہ مستقبل میں ان کے لیے مسائل پیدا کرسکے۔

بعض مغربی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عراقی القاعدہ کے النصرۃ محاذ کے ساتھ تعلق سے شام کے اندر اس تنظیم کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ القاعدہ کو مسلم دنیا میں اچھے لفظوں سے یاد نہیں کیا جاتا ہے جبکہ النصرۃ محاذ میں شام سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی شامل ہیں اور اس میں القاعدہ کی طرح بھانت بھانت کی بولیاں بولنے اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے جنگجو شامل نہیں ہیں۔

النصرۃ محاذ نے عراق میں القاعدہ سے ہونے والی غلطیوں سے بھی سبق سیکھا ہے اور وہ اس بات پر اصرار کرتی رہی ہے کہ وہ شامی سکیورٹی فورسز اور سرکاری اداروں ہی کو نشانہ بنا رہی ہے اور اس نے اپنے حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا۔تاہم اس تنظیم کے خودکش بم حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کا بھی بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں