شامی بحران کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے:روسی وزیرخارجہ

شام میں ہزاروں غیرملکی جنگجو اسدی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ شامی بحران کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں اس وقت ہزاروں غیرملکی جنگجو باغیوں کے ساتھ مل کر صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔

وہ جمعہ کو ماسکو میں اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کے سربراہ اکمل الدین احسان اوغلو کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ القصیر میں رونما ہونے والے واقعات سے متعلق حقائق کو مسخ کیا جارہا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے امریکا کی جانب سے ''منافقانہ'' بیانات کا حوالہ دیا۔

امریکا نے جنوب مغربی شہر القصیر میں شامی فوج کے حملے کی مذمت کی ہے اور اسد رجیم پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے لبنانی تنظیم حزب اللہ اور ایران کی حمایت سے وہاں باغیوں کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے ایک بیان میں کہا کہ ''یہ واضح ہے شامی رجیم بہ ذات خود القصیر پر حزب اختلاف کے کنٹرول کو ختم نہیں کراسکتا تھا اور اس نے وہاں قبضہ واپس لینے کے لیے حزب اللہ اور ایران پر انحصار کیا ہے''۔

درایں اثناء اسلامی کانفرنس تنظیم کے سربراہ اکمل الدین احسان اوغلو نے بتایا ہے کہ تنظیم میں شام کی رکنیت معطل کردی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ شام میں صورت حال زیادہ پیچیدہ ہوتی جارہی ہے اور اس کے ہمسایہ ممالک پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جبکہ لڑائی فرقہ وارانہ نوعیت اختیار کرتی جارہی ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ''اوآئی سی شامی بحران کے حل کے لیے امریکا اور روس کی مجوزہ جنیوا دوم کانفرنس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔اس کانفرنس کو شام میں تشدد کے خاتمے کا ذریعہ بننا چاہیے اور انتقال اقتدار کی ضمانت دینی چاہیے''۔

واضح رہے کہ شامی حکومت نے اسی ماہ جنیوا میں ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہےلیکن حزب اختلاف نے شرکت کے لیے یہ شرط عاید کی ہے کہ شام سے حزب اللہ اور ایرانی فورسز کو واپس بلائے جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں