امریکا نے شامی حزب اختلاف پرتجارتی پابندیاں نرم کردیں

جیش الحر کے آزاد کردہ علاقوں میں ٹیکنالوجی،خوراک اور ادویہ مہیا کرنے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکا نے شامی حزب اختلاف پر عاید تجارتی پابندیاں نرم کردی ہیں جس کے بعد جیش الحر کے آزاد کرائے گئے علاقوں میں شامی شہریوں کو ضروری اشیاء مہیا کی جاسکیں گی۔

امریکا کی جانب سے شام پر عاید عمومی پابندیوں کے خاتمے کے بعد اب کمپنیوں کو حزب اختلاف کے کنٹرول والے علاقوں میں سوفٹ وئیر ،ٹیکنالوجی ،تعمیر نو کے لیے سامان اور بجلی پیدا کرنے کے آلات کے علاوہ فارم اور خوراک کی مصنوعات مہیا کرنے کی اجازت ہوگی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ان اشیاء کو مہیا کرنے کی اجازت دینے کا مقصد شامی عوام کی ضروریات کو پورا کرنا اور آزاد کرائے گئے علاقوں میں تعمیرنو کی سرگرمیوں کے لیے سہولت بہم پہنچانا ہے''۔

امریکا کے اس اقدام کے بعد اب کمپنیاں حزب اختلاف سے براہ راست تیل بھی خرید کرسکیں گی۔اس کے علاوہ شام کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے غیر منافع بخش امداد بھی مہیا کی جاسکے گی۔

بیان کے مطابق :''شام میں ہماری ترجیح لوگوں کی مدد کرنا ہے اور ملک میں جاری تنازعے سے متاثر ہونے والے شامی عوام تک خوراک اور ادویہ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ شام کے مستقبل کی تعمیر نو کے لیے اس ملک کے ثقافتی ورثے کو محفوظ بنایا جانا بھی ضروری ہے اور ہم اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ پابندیاں اس اہم کوشش کی راہ میں حائل نہ ہوں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں