روبیو: امریکہ بدستور ایران بحران پر گفتگو کے لیے تیار ہے

ایران کو آبنائے ہرمز کے کنٹرول کی اجازت دینے سے ایک غلط نظیر قائم ہو گی: امریکی وزیرِ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ بدستور ایران بحران کا خاتمہ کرنے کے لیے مذاکرات پر تیار ہے لیکن تہران مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

روبیو نے ان خیالات کا اظہار جنوب مشرقی ایشیا کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں کیا جیسا کہ بڑھتے ہوئے تنازعے سے دنیا میں توانائی کے دو اہم ترین راستوں میں خلل پیدا ہوا ہے۔

ایک سینئر ایرانی اہلکار نے پیر کے روز رائٹرز کو بتایا کہ تہران کو ثالثین کی طرف سے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی تھی تاکہ جون میں امریکہ-ایران عبوری معاہدہ بچانے کی کوشش کی جائے۔

ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ثالث پاکستان کا دورہ کیا اور اسلام آباد سے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے لیے کہا جو سفارت کاری کے بدستور موجود ہونے کی ایک اور علامت ہے۔

روبیو نے کہا، واشنگٹن "ہمیشہ سفارت کاری کے لیے پرعزم تھا" لیکن اس بات پر شک کا اظہار کیا کہ آیا تہران بھی مذاکرات کے لیے اتنا ہی پرعزم تھا یا نہیں۔

انہوں نے منیلا میں کہا، "ہمیں ابھی یہ مسئلہ درپیش ہے کہ وہ بات چیت میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ اگر وہ سنجیدہ ہیں تو ہم سنجیدہ ہیں۔ اگر وہ نہیں تو ہم اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے جو ضروری ہے وہ کریں گے۔"

انہوں نے اس بات پر زور دیا ہےکہ ایران کو آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کے لیے انہوں نے یہ دلیل دی کہ یہ دنیا بشمول جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے لیے ایک خطرناک نظیر قائم کرنے کا باعث ہو گا جن میں سے اکثر کے چین کے ساتھ بحیرۂ جنوبی چین میں علاقائی تنازعات ہیں۔

"اگر ہم شرقِ اوسط میں کوئی نظیر قائم کرتے ہیں جہاں ایک قومی ریاست یہ فیصلہ کر سکتی ہو کہ وہ ایک بین الاقوامی آبی گذرگاہ کو کنٹرول کرنے جا رہی ہے، وہ محصول وصول کرے گی اور اگر آپ انہیں ادائیگی نہیں کرتے ہیں تو وہ آپ کے جہازوں کو اڑا دیں گے۔۔ تو ہم نے ایک نہایت خطرناک نظیر قائم کی ہے جو اس خطے سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں بھی دہرائی جائے گی۔" روبیو نے کہا۔

دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری فارس خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ تہران کے رہائشیوں نے بدھ کی اولین ساعتوں میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا کے مطابق جنوب مشرقی ساحلی شہروں چابہار اور کونارک میں بھی دھماکوں کی اطلاع ملی اور بوشہر میں دو دھماکے سنے گئے جو ایران کا واحد جوہری پاور پلانٹ ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے باب المندب بند کر دینے اور سعودی تیل کی ترسیل روک دینے کی دھمکیاں دیں جن کے بعد منگل اور بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں