ایرانی اپوزیشن جماعت "مجاھدین خلق" کے 71 ارکان عراق سے البانیا منتقل

البانیا مجاھدین خلق کے 210 اور جرمنی 100 ارکان کو پناہ دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے


ایران میں نظریہ ولایت فقیہ کی مخالف تنظیم"مجاہدین خلق" کے 71 ارکان عراق سے ترک سکونت کرکے جنوب مشرقی یورپی ملک البانیا پہنچے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق بغداد میں اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب مارٹن کوبلر نے بتایا کہ عراق میں امان کے مقام پر"الحریہ" کیمپ میں موجود مجاہدین خلق سے تعلق رکھنے والے اکہتر مردو خواتین البانیا پہنچے ہیں۔"یو این" مندوب کا کہنا تھا کہ البانیا نے مجاہدین خلق کے 210 ارکان کو اپنے ہاں شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ جرمنی ایک سو ارکان کو پناہ دینے کی پیشکش کی ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی اپوزیشن جماعت "مجاہدین خلق" کے ہزاروں حامی پچھلے کئی برسوں سے بغداد اور اس کے مضافات میں مختلف کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں عراق حکومت اور اقوام متحدہ کے درمیان طے پائے ایک معاہدے کے تحت مجاھدین خلق کے ارکان کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے پر اتفاق کیا تھا ۔ اس معاہدے کے بعد مجاھدین خلق کے کوئی تین ہزار ارکان اوران کے خاندانوں کو بغداد کے قریب امریکا کے ایک سابقہ فوجی اڈے"لیبرٹی" میں منتقل کردیا گیا۔ عراق چھوڑنے سے قبل یہ کیمپ ایرانی اپوزیشن کا گڑھ سمجھا جاتا تھا

لیبرٹی کیمپ میں پناہ گزین ہونے سے قبل مجاھدین خلق کے بیشتر حامی بغداد سے 80 کلومیٹر دور شمال مشرق میں واقع"معسکر اشرف" میں قیام پذیر تھے۔ یہ لوگ سابق مصلوب صدر صدام حسین کے دور سے اس کیمپ میں رہ رہے تھے، جنہیں ایران پر حملے میں مدد فراہم کرنے پر صدام حسین نے ہرقسم کی سہولیات دے رکھی تھیں۔ سنہ 2003ء میں عراق پرامریکی تسلط کے قیام کے بعد "اشرف کیمپ" امریکی فوج کی نگرانی میں چلا گیا۔ سنہ 2010ء میں اس کیمپ کا کنٹرول عراقی فوج کے حوالے کردیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں