شام میں 10 کیمیائی حملے کیے گئے:امریکا،برطانیہ
صدر بشارالاسد کی وفادار فوج پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام
امریکا اوربرطانیہ نے اقوام متحدہ کے ماہرین کو شام میں صدر بشارالاسد کی فورسز کے مخالفین پر کیمیائی ہتھیاروں کے دس مبینہ حملوں کے بارے میں ثبوت فراہم کر دیے ہیں۔
ان دونوں ممالک کے علاوہ فرانس نے بھی شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ثبوت سویڈش ماہر آکے سیل اسٹارم کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو بھیجے ہیں۔
سفارت کاروں کے مطابق شام میں گذشتہ دسمبر سے مئی تک خطرناک ہتھیار استعمال کیے گیے تھے اور امریکا اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کو دس الگ الگ واقعات کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ان مغربی ممالک کا یہ کہنا ہے کہ شامی صدر کی وفادار فوج ہی نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں اور انھیں حزب اختلاف کے جنگجوؤں کی جانب سے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔
واضح رہے کہ شامی حکومت نے باغی جنگجوؤں پر شمالی صوبے حلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عاید کیا تھا اور اقوام متحدہ سے اس واقعہ کی تحقیقات کی درخواست کی تھی لیکن وہ ابھی تک سیل اسٹارم کی قیادت میں اقوام متحدہ کے ماہرین کو شام آنے کی اجازت دینے سے انکار کرتی چلی آرہی ہے۔
سیل اسٹارم اسی ہفتے ترکی پہنچے تھے جہاں سفارت کاروں کے بہ قول وہ ان ڈاکٹروں سے ملاقات کرنے والے تھے جنھوں نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں سے متاثرہ افراد کا علاج کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون متعدد مرتبہ ماہرین کی اس ٹیم کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے مشتبہ جگہوں تک بلا روک ٹوک رسائی دینے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ مغربی ممالک کی جانب سے شام کے خلاف پیش کردہ تفصیل کو بطور شواہد تسلیم نہیں کیا جائے گا اور اس کے بجائے عالمی ادارے کے اپنے ماہرین برسرزمین جا کر اپنے شواہد اکٹھے کریں گے اور ان کی بنیاد پر تحقیقات کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔
شامی صدر کا اتحادی ملک روس بھی یہ کہہ چکا ہے کہ باغی جنگجوؤں پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں سے متعلق امریکا کی فراہم کردہ معلومات ناکافی ہیں۔امریکا نے حال ہی میں بشارالاسد کی حکومت پر باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوران شہری علاقوں میں اعصاب کو متاثر کرنے والے مواد پر مشتمل کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔
یہ الزام شامی دارالحکومت کے نواحی علاقے سے اسمگل شدہ زمین کے نمونوں کے تجزیے کے بعد عاید کیا گیا تھا۔ان نمونوں میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے اجزاء پائے گئے تھے۔امریکی صدر براک اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال یا ان کی کہیں اور منتقلی سرخ لکیر کو عبور کرنے والا اقدام ہوگا اور اس کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔