.

مصر: اخوان کی یورپی ایلچی کے ذریعے مذاکرات کی پیش کش

تین جولائی کے بعد جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مثبت پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اخوان المسلمون نے مصر میں منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی سے شروع ہونے والے سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے یورپی یونین کے ذریعے مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔

اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ بحران کے حل کے لیے یورپی یونین کے ایلچی برنارڈینو لیون کو بات چیت کی تجویز پیش کی گئی ہے اور یہ تجویز یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن کے دورے سے ایک روز قبل دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمون نئے صدارتی انتخابات سمیت کسی بھی سیاسی ایشو پر مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس سے پہلے فوج کو اپنے تین جولائی کے اقدام کو واپس لینا ہوگا جس کے تحت ایک منتخب صدر کو یک طرفہ طور پر برطرف کردیا گیا تھا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ''انھیں پہلے نمبر پر فوجی بغاوت کو واپس لینا ہوگا''۔ان کے بہ قول:''آپ ایک ٹینک پر چڑھ کر نہیں آ سکتے کہ اس طرح ایک منتخب صدر ہی کو ہٹا دیں۔ یہ فوجی انقلاب یا ایک جمہوری انتخاب کے درمیان کا معاملہ ہے''۔

مسٹر لیون نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے بحران کے حل کے لیے یورپی یونین کے اثرورسوخ کو بروئے کار لانے کی پیش کش کی تھی۔البتہ انھوں نے اس سلسلے میں ''ثالث کار'' کی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ مبالغہ آرائی ہوگی۔

جہاد الحداد کی بیان کردہ تجویز ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔انھوں نے اس کی کوئی تفصیل بھی بیان نہیں کی ہے اور اسے بات چیت کا چینل کھولنے کا ایک ''فریم ورک''قرار دیا ہے۔انھوں نے اخوان المسلمون کے اس مسلمہ مطالبے پر اصرار کیا ہے کہ تین جولائی کے اقدام کو مکمل طور پر واپس لیا جائے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یہ ابھی واضح نہیں کہ مخالف طرف سے کون نمائندگی کرے گا،فوج ،جس نے منتخب صدر کو ہٹانے کے لیے انقلاب برپا کیا یا سیاست دان۔انھوں نے کہا کہ ''ہمیں تیسرے فریق کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ تیسرا فریق کون ہوگا۔یہ آرمی ہوگی یا این ایس ایف؟''ان کا اشارہ سابقہ حزب اختلاف قومی محاذ آزادی کی جانب تھا جس کے روح رواں محمد البرادعی اب ملک کے نائب صدر ہوگئے ہیں۔

مسٹر لیون اخوان کے عہدے داروں سے بات چیت کے بعد قاہرہ سے واپس برسلز چلے گئے ہیں۔انھوں نے مذاکرات کی پیش کش سے متعلق کسی تجویز کی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں فریقین اب مذاکرات پر آمادہ ہیں۔

برنارڈینو لیون نے کہا کہ ''مذاکراتی اقدام کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ہم نے ابھی صرف پارٹیوں کو سنا ہے کہ ان کا موقف کیا ہے اور آیا ایسی کوئی کھڑکی کھلی ہے کہ جس کی حمایت کی جاسکے ۔ان کے بہ قول یہ مصریوں کے درمیان مذاکرات کا عمل ہوگا اور اس میں کوئی غیر ملکی کردار نہیں ہوگا''۔