جماعت نے کہا تو صدارتی انتخاب لڑوں گا:رجب طیب ایردوآن

اے کے پارٹی کے منشور کے تحت ایردوآن تیسری مرتبہ وزیراعظم نہیں بن سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ اگر ان کی جماعت نے کہا کہ تو وہ آیندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کو تیار ہیں۔

رجب طیب ایردوآن گذشتہ قریباً ایک عشرے سے ترک سیاست میں چھائے ہیں لیکن وہ 2015ء میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنی جماعت اے کے کے وضع کردہ قواعد وضوابط کے تحت وزارت عظمیٰ کے امیدوار نہیں بن سکتے ہیں۔ان کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ وہ آیندہ صدارتی امیدوار ہوسکتے ہیں۔

رجب طیب ایردوآن نے ترکی کے نشریاتی ادارے اے حبر کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ''میں نے ابھی تک اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔اگر میں اس طرح کا کوئی فیصلہ کروں گا تو یقیناً اس کا اعلان کروں گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہمارا ایک نظام ہے اور یہ مشاورت پر مبنی ہے۔اس مشاورت کا سب سے اہم عنصر میری جماعت ہے۔میری جماعت مجھے جو بھی ذمے داری سونپے گی،میں اس کو نبھاؤں گا''۔

واضح رہے کہ ترکی میں پہلے عوامی صدارتی انتخابات کے انعقاد میں ایک سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے اور ترک ووٹر پہلی مرتبہ براہ راست صدر کا انتخاب کریں گے لیکن اس وقت یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ موجودہ صدرعبداللہ گل اور وزیراعظم رجب طیب ایردوآن آیندہ صدارتی یا پارلیمانی انتخابات کے بعد کیا کردار نبھائیں گے۔

ترکی کے صدر کا عہدہ اس وقت علامتی نوعیت کا ہے اور تمام اختیارات وزیراعظم کو حاصل ہیں جبکہ ترکی کے آئین میں ترامیم بھی زیرغور ہیں جن کے تحت صدر کو انتظامی اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔تاہم ترکی کی چار جماعتوں کے درمیان اس حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں اور ان کے درمیان صدارتی اختیارات کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔

عبداللہ گل اور رجب طیب ایردوآن دونوں ہی اے کے پارٹی کے بانی ارکان ہیں۔انھوں نے باقی اسلام پسند لیڈروں کے ساتھ مل کر؁ 2001ء میں اے کے کی بنیاد رکھی تھی۔ان دونوں لیڈروں کے درمیان باہمی اعتماد کا رشتہ رہا ہے مگر اب یہ کہا جارہا ہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن کے بعد سے ان کے درمیان شکر رنجی پیدا ہوچکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں