مغرب سے معاہدہ،ایران کے جوہری حق کا تحفظ ہوگا:روحانی

سپریم لیڈر کی رہ نمائی کی روشنی میں مغرب سے مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ بڑی طاقتوں سے طے پائے معاہدے سے تہران کے جوہری حقوق کو تحفظ مل گیا ہے۔

صدر حسن روحانی نے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے پر تصفیے کے چند گھنٹے کے بعد ایک نشری بیان میں کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہ نمائی کی روشنی میں مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں اور اب ایک جامع سمجھوتے کے لیے بھی فوری مذاکرات شروع کردیے جائیں گے۔ انھوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

درایں اثناء آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے پر ڈیل کو سراہا ہے۔انھوں نے کہا کہ جوہری مذاکرات کرنے والی ٹیم کا اس اہم کامیابی پر شکریہ ادا کیا جانا چاہیے اور اس کو سراہا جانا چاہیے۔اللہ کا فضل اور ایرانی قوم کی حمایت اس کامیابی کا سبب بنی ہے۔

سپریم لیڈر اور صدر حسن روحانی کے یہ بیانات چھے بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد سامنے آئے ہیں۔اس معاہدے کے تحت ایران یورینیم کو پانچ فی صد سے زیادہ مصفیٰ کرنے کے پروگرام کو منجمد کردے گا۔اس کے بدلے میں اس پر عاید پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی اور اسے قریباً سات ارب ڈالرز تک ریلیف دیا جائے گا۔

معاہدے کے تحت ایران نے عالمی طاقتوں سے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ نئی سینیٹری فیوجز مشینیں نصب نہیں کرے گا۔تاہم اس کو اپنی یورینیم افزودگی کی دو تنصیبات میں سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔

تجزیہ کاروں نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے ایران کو یورینیم افزودگی کے حساس کام پر پیش رفت سے روکا جاسکے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید امریکا ،یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی جس سے ایرانی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے گی۔

عالمی امریکن کونسل کے صدر ماجد رفیع زادےنے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے تک پہنچنے میں متعدد عوامل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ان میں اول یہ کہ اوباما انتظامیہ ایران کے جوہری تنازعے سے نمٹنے کے لیے متبادلات پر غور کرنے کو تیار نہیں تھی اور وہ ایران کے خلاف فوجی آپشن کو بھی بروئے کار لانے میں متردد تھی۔

ایران کے جوہری پروگرام کے کٹر مخالف اسرائیل نے مذکورہ معاہدے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک بُرا معاہدہ قراردیا ہے۔صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ ایک بُرا سمجھوتا ہے اور اس سے ایران کو وہ کچھ مل گیا ہے ،جو وہ چاہتا تھا۔اس پرعاید پابندیاں جزوی طور پر ہٹا دی جائیں گی جبکہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھ سکے گا''۔

مقبول خبریں اہم خبریں