.

سعودی انٹیلی جنس چیف کی ماسکو میں صدر پوتین سے ملاقات

شام کی صورت حال ،جنیوا دوم کانفرنس اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے انٹیلی جنس چیف شہزادہ بندر بن سلطان روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچے ہیں اور وہ آج صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

العربیہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کے ایجنڈے کی تفصیل فوری طور پر دستیاب نہیں ہوئی لیکن توقع ہے کہ اس میں شام میں جاری بحران ،جنیوا دوم امن کانفرنس اور دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

روسی صدر اور شہزادہ بندر کے درمیان اس سے پہلے جولائی میں ملاقات ہوئی تھی اور اس میں انھوں نے شام میں جاری بحران کے خاتمے کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔سعودی انٹیلی جنس چیف نے مبینہ طور پر صدر ولادی میر پوتین پر زوردیا تھا کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔

سعودی عرب کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل ایسے وقت میں ماسکو کا یہ دورہ کررہے ہیں جب امریکا اور روس شام میں پرامن انتقال اقتدار اور بحران کے خاتمے کے لیے جنیوا میں 22 جنوری کو منعقد ہونے والی دوسری کانفرنس کو کامیاب کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔

شامی حزب اختلاف نے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے یہ شرط عاید کی ہے کہ اس کے نتیجے میں ملک میں ایک عبوری حکومت قائم ہونی چاہیے اور اس میں صدر بشارالاسد یا ان کے دوسرے ارباب اقتدار کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب شامی حکومت اور اس کے پشتی بان ممالک ایران اور روس اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت کے لیے کوئی پیشگی شرائط نہیں ہونی چاہئیں۔

درایں اثناء شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بشارالاسد کی منظوری کے بغیر بحران کے کسی حل پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ''جنیوا میں شامی حکومت کا وفد صدراسد کی ہدایات کے مطابق کام کرے گا اور وہاں جو بھی حل تجویز کیا جائے گا،اس کی صدر کی منظوری کے بغیر کوئی اہمیت نہیں ہوگی''۔