.

شام میں پانچ مرتبہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے: اقوام متحدہ

بان کی مون کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کیخلاف پابندیوں کے حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کیخلاف پابندیاں لگانے کیلیے کہا ہے۔ بان کی مون نے اس امر کا اظہار جنرل اسمبلی میں اس رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کیا ہے جو شام میں میں ڈھائی برسوں کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں تیار کی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو نہیں ٹھہرایا گیا ہے تاہم یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ 2011 میں شروع ہو نے والی خانہ جنگی کے ابتدائی ڈھائِی برسوں میں کیمیائی ہتھیار پانچ مرتبہ استعمال کیے گئے ہیں۔

بان کی مون نے کہا ''میں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہوں گا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے، یہ اقدام انسانی اقدار کے منافی ہے۔''

بتایا گیا ہے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا پتہ چلانے پر مبنی اس رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ رپورٹ تیار کرنے والوں کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس چیز کا مینڈیٹ نہیں دیا تھا۔ تاہم عالمی برادری کی اخلاقی ذمہ داری ہے انسانیت کیخلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دے۔

بان کی مون نے کہا'' شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کیلیے کی جان والی کوششوں سے ان کی ہمت افزائی ہوئی ہے۔'' انہوں نے مزید کہا '' عالمی برادری کی یہ توقع ہے کہ عرب جمہوریہ 2014 جون تک ان مہلک ہتھیاروں کی مکمل تلفی کیلیے اپنی ذمہ داریاں بہ احسن نبھائے گی۔''

شامی صدر بشار الاسد نے کہا ماہ ستمبر میں کیمیائی ہتھیاروں کی فہرست عالمی برادری کے حوالے کرنے پر اتفاق کر لیا تھا۔ اس سے پہلے 21 اگست کو شامی دارالحکومت کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے 1400 کے قریب لوگ لقمہ اجل بنے تھے۔