.

یمن: فرقہ وارانہ جھڑپوں میں نو افراد ہلاک، متعدد زخمی

دو شمالی صوبوں میں حوثی باغیوں اور اہل سنت کے درمیان دو روز سے لڑائی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دو شمالی صوبوں میں حوثی شیعہ باغیوں اور اہل سنت سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پر لڑائی میں نو افراد ہلاک اور متعدد ہوگئے ہیں۔

قبائلی ذرائع کے مطابق شمالی صوبے صعدہ اور اس کے پڑوس میں واقع صوبے عمران میں حوثی باغیوں اور سنی جنگجوؤں کے درمیان مسلح لڑائی جمعرات کو شروع ہوئی تھی اور یہ جمعہ کو بھی جاری رہی ہے۔لڑائی میں سنی جنگجوؤں کو مقامی قبائلیوں کی حمایت حاصل ہے۔

متحارب جنگجوؤں میں صعدہ کے قصبے دماج میں جھڑپوں میں سات حوثی باغی اور دو قبائلی مارے گئے ہیں۔سلفیوں کے ترجمان خالد العزنی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔حوثی شیعہ گروپ انصاراللہ کے ایک عہدے دار علی البخیتی کا کہنا ہے کہ صوبہ عمران میں جھڑپوں میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

انھوں نے حوثی جنگجوؤں پر دماج میں بمباری کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ قصبے میں صورت حال الم ناک ہے۔تاہم ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے کیونکہ یمن کے شمالی پہاڑی علاقوں تک غیر جانبدار صحافیوں کی رسائی نہیں ہے اور لڑائی کے دونوں فریق ہلاکتوں کے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے مبالغہ آرائی سے بھی کام لے سکتے ہیں۔ بخیتی نے لڑائی کو قبائلی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی نوعیت فرقہ وارانہ نہیں ہے جیسا کہ سلفی بیان کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے اکتوبر میں بھی صعدہ ان دونوں متحارب گروپوں کے درمیان مسلح جھڑپیں ہوئی تھیں۔تب حوثی باغیوں نے صعدہ کے قصبے دماج میں سلفیوں کی ایک مسجد پر حملہ کیا تھا۔اس قصبے میں سلفیوں کا دارالقرآن والحدیث کے نام سے ایک دینی مدرسہ بھی ہے جس میں غیرملکی طلبہ بھی زیرتعلیم ہے۔

واضح رہے کہ حوثی باغی زیدی شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور انھیں یہ نام ان کے مرحوم لیڈر عبدالمالک الحوثی کے نام پر دیا گیا تھا۔وہ 2004ء سے یمن کے شمالی علاقوں میں خودمختاری کے لیے مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔انھوں نے تب سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے تھے اور ان پر حوثیوں کو سیاسی اور اقتصادی طور پر دیوار سے لگانے کا الزام عاید کیا تھا حالانکہ وہ خود زیدی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔